حملوں میں وقفہ، مذاکرات میں پیش رفت، واشنگٹن اور تہران نئے موڑ پر

Published On: 26 July, 2026 03:56 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
حملوں میں وقفہ، مذاکرات میں پیش رفت، واشنگٹن اور تہران نئے موڑ پر

(فوٹو اے آئی)

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اہم موڑ آیا ہے، جہاں امریکی فضائی حملے عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں جبکہ عمان کی ثالثی میں سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

 امریکہ نے تقریباً دو ہفتوں تک جاری شدید فضائی حملوں کے بعد ایران پر بمباری عارضی طور پر روک دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ وقفہ مستقل جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہے یا صرف عارضی حکمت عملی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب ایران پر مزید حملوں کی دھمکی برقرار رکھی ہے، تو دوسری جانب یہ بھی کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی تیل اور گیس کی قیمتیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔

آبنائے ہرمز پر مذاکرات مرکزِ نگاہ
علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ  اور ایران دونوں جنگ بندی کے عبوری معاہدے کی بحالی چاہتے ہیں۔ موجودہ مذاکرات کا بنیادی محور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے طریقہ کار اور ایران کی جانب سے عائد پابندیوں میں نرمی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی( Iran’s Foreign Ministry spokesperson, Esmail Baghaei) نے تصدیق کی ہے کہ عمانی حکام کے ساتھ تہران میں کئی دور کی تکنیکی بات چیت ہوئی ہے، جس میں پیش رفت بھی ہوئی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

 آبنائے ہرمز اہم کیوں؟
جنگ کے آغاز پر ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کیے تھے، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی اہم سمندری راستے سے ہوتی ہے، اس لیے اس کی بندش عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔

امریکہ نے جواباً ایران کے ساحلی دفاعی نظام، پلوں اور جنوبی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تاکہ تہران کی بحری حملوں کی صلاحیت کمزور کی جا سکے۔

اسرائیل کی خاموشی بھی اہم اشارہ؟
 خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی کے منیجنگ ڈائریکٹر مائیکل سنگھ کے مطابق اسرائیل کی موجودہ خاموشی ایران کے لیے دو مختلف پیغامات رکھتی ہے۔ ایک طرف یہ اشارہ ہو سکتا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل دوبارہ جنگ میں شامل ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ تنازع کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

ان کے مطابق اگر فضائی حملوں کا یہ وقفہ کئی روز تک برقرار رہا تو اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایران کی داخلی سیاست بھی بڑی رکاوٹ
مغربی ماہرین کے مطابق ایران کی داخلی قیادت مختلف دھڑوں میں منقسم ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنا آسان نہیں۔ ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ زیادہ نرمی اختیار کرنے سے اسے اندرونِ ملک سیاسی کمزوری کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

حوثیوں کی کارروائیاں، خطے میں کشیدگی برقرار
ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ حوثیوں( Houthi) نے باب المندب(Bab el-Mandeb Strait) کی گزرگاہ بند کرنے کا بھی اعلان کیا، جس سے خطے میں سمندری تجارت مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ٹرمپ: دو راستے ہیں، حملے یا مذاکرات
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس دو راستے ہیں؛ یا تو ایران پر موجودہ انداز میں حملے جاری رکھے جائیں یا پھر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے۔

ان کے مطابق ایران ابھی مکمل معاہدے کے لیے تیار نہیں، تاہم تہران کی سنجیدگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایران کی صورتحال پر مشاورت بھی کی، جہاں موجودہ حکمت عملی برقرار رکھنے یا فوجی کارروائیاں بڑھانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ اس دوران مسلسل 13 راتوں کی بمباری کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ نے ایران پر کوئی نیا فضائی حملہ نہیں کیا۔