(فوٹواے پی)
آسام اس وقت بدترین سیلاب کی زد میں ہے۔50سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 7 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بار تباہ کن سیلاب صرف غیر معمولی بارشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، کان کنی، دریائی راستوں میں مٹی جمع ہونے اور ناقص آبی انتظام نے بھی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
ملک کی شمال مشرقی ریاست آسام اس وقت اپنی حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب سے گزر رہی ہے، جہاں صرف ایک ہفتے کے دوران 66 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ تقریباً 7 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق اب بھی 50 ہزار سے زائد افراد تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، اَپرآسام (Upper Assam) کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع شیوساگر(Sivasagar,)، چرائی دیو(Charaideo) اور جورہاٹ(Jorhat) کے باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس شدت کا سیلاب نہیں دیکھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سیلاب کا پانی نئے علاقوں کو اپنی زد میں لےرہا ہے۔
شدید تباہی
19 جولائی سے شروع ہونے والی شدید بارشوں کے بعد سیلاب نے تیزی سے خطرناک صورت اختیار کی۔ حکام کے مطابق اب تک 12 اضلاع کے 856 دیہات متاثر ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 7 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔
متعدد دیہات، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور اہم شہر شیوساگر کئی فٹ گہرے پانی میں ڈوب چکے ہیں، جہاں بعض علاقوں میں پانی سینے سے بھی بلند ہو گیا۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(Assam State Disaster Management Authority ) کے مطابق پیر سے اب تک 58 اموات سرکاری طور پر ریکارڈ کی جا چکی تھیں، جن میں 6 بچے بھی شامل تھے، تاہم اس کے بعد مجموعی تعداد 66 تک پہنچ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک مکمل رسائی کے بعد ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اب تک 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 4 ہزار 455 افراد کو این ڈی آر ایف، فوج، ایس ڈی آر ایف، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اور مقامی انتظامیہ نے کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر پہنچایا۔
کئی علاقے اب بھی امداد سے محروم
وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرم کے مطابق ضلع شیوساگر کے بعض حلقوں میں پانی اترنے کے باوجود امدادی ٹیمیں اب بھی مکمل طور پر نہیں پہنچ سکیں۔ان کا کہنا ہے کہ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد کئی فٹ موٹی مٹی اور تلچھٹ (Sediment) جمع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سڑکیں ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں۔
سیلاب کی اصل وجہ کیا بنی؟
ابتدائی طور پر آسام حکومت نے اس تباہی کی وجہ ہمسایہ ریاست ناگالینڈ کے ضلع مون میں مبینہ کلاؤڈ برسٹ(Cloudburst ) کو قرار دیا تھا، تاہم محکمہ موسمیات کے سائنس دانوں نے واضح کیا کہ وہاں کلاؤڈ برسٹ نہیں ہوا بلکہ تقریباً 137 ملی میٹر بارش آٹھ سے نو گھنٹوں کے دوران ہوئی، جس نے شدید لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا اور متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق 18 اور 19 جولائی کو ناگالینڈ کے اضلاع ووکھا، موکوک چونگ، مون اور آسام کے ضلع چرائی دیو میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ چرائی دیو میں بارش معمول سے 436 فیصد جبکہ موکوک چونگ میں 493 فیصد زیادہ رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی رفتار سے بلند ہوئی جبکہ پہلے سے بھرے ہوئے دریائے برہم پتر کی وجہ سے معاون دریاؤں کا پانی بروقت خارج نہ ہو سکا۔
کیا صرف بارش ذمہ دار ہے؟
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ غیر معمولی بارش بنیادی وجہ ہے، تاہم انسانی سرگرمیوں نے بھی اس تباہی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
گوہاٹی یونیورسٹی کے شعبۂ جغرافیہ کے پروفیسر دھروبیہ جوتی سہاریا کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ دریاؤں کے کناروں پر بڑے پیمانے پر کھدائی اور ممکنہ کان کنی کی گئی، جس کے باعث بڑی مقدار میں مٹی دریاؤں میں جمع ہوئی اور ان کی پانی لے جانے کی صلاحیت کم ہو گئی۔
دوسری جانب آئی آئی ٹی روڑکی کے سابق پروفیسر اور آبی وسائل کے ماہر ناین شرما کا کہنا ہے کہ جنگلات کی تیزی سے کٹائی بھی ایک اہم سبب ہے۔
ان کے مطابق گھنے جنگلات بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا وقت دیتے ہیں لیکن جب جنگلات ختم ہو جائیں تو بارش کا پانی تیزی سے نیچے آتا ہے، اپنے ساتھ بڑی مقدار میں مٹی اور تلچھٹ بہا کر دریاؤں میں جمع کرتا ہے، جس سے دریاؤں کی گہرائی کم اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آبی ذخائر کے بالائی علاقوں میں وسیع پیمانے پر شجرکاری ناگزیر ہے، جبکہ جدید عالمی بارش مانیٹرنگ نظام کے ذریعے بہتر پیش گوئی سے بھی بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ڈیم سے پانی چھوڑنے کا بھی اثر
پروفیسر دھروبیہ جوتی سہاریا کے مطابق ناگالینڈ کے ضلع ووکھا میں واقع دویانگ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے اضافی پانی چھوڑنے کے بعد بھی سیلابی پانی کے اخراج کا عمل مزید سست ہو گیا، جس نے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔




