(فوٹورائٹرز)
غزہ میں امن کے قیام کی سمت امریکی صدر ٹرمپ نے پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا۔اس کے باوجود اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں ۔
غزہ پراسرائیلی حملے اتوار کوبھی پر جاری رہے جس کے نتیجے میں کم از کم 4 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے غزہ شہر(Gaza City) اور دیر البلح(Deir al-Balah) پر الگ الگ فضائی حملے کیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طبی عملے کا کہنا ہے کہ دیر البلح میں ایک اپارٹمنٹ پر کیے گئے حملے میں ایک مرد اور اس کی اہلیہ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر حملے میں ایک بچے سمیت دیگردو افراد جاں بحق ہوئے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کے بعد، امریکہ کی حمایت یافتہ ایک نئی پہل کے تحت، گزشتہ سال مصر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
جمعے کے روز، ٹرمپ کی سربراہی میں قائم امن کونسل نے 15 نکاتی روڈ میپ جاری کیا، جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے آخری مراحل بیان کیے گئے ہیں۔
ادھر، حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار صرف اسی صورت میں محفوظ کرے گی جب اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں روک کر گزشتہ سال کے معاہدے کے مطابق اپنی افواج واپس بلائے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ جب تک حماس مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتی، اس وقت تک موجودہ فوجی مقامات سے انخلا نہیں ہوگا۔





