(دائیں: مسجد اقصیٰ اور بائیں:،مسجد ابراہیمی)
فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے جولائی کے دوران اسرائیلی اقدامات پر مبنی ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی سمیت متعدد اسلامی مقدس مقامات پر خلاف ورزیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے جولائی مہینے کی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسلامی مقدس مقامات کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطے میں 27 مرتبہ آبادکاروں نے باب المغاربہ کے راستے داخل ہو کر یلغار کی۔اتوار(2 اگست) اور پیر(3 اگست) کو بھی درجنوں اسرائیلی آباد کارمسجد کے احاطے میں داخل ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آبادکار کئی گھنٹوں تک مسجد کے صحنوں میں گھومتے رہے، اس دوران اسرائیلی فورسز نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے۔
ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی قومی سلامتی کے وریر ایتاماربن گویر، کنیسٹ کے بعض ارکان اور ٹمپل ماؤنٹ سے وابستہ تنظیموں کے لیڈر بھی شریک تھے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ان مواقع پر تلمودی عبادات، مکمل سجدے، تفیلین پہننے، اسرائیلی پرچم لہرانے اور مسجد کے صحن میں پتھر لانے جیسے اقدامات کیے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مشرقی حصے میں آبادکاروں کے لیے مستقل سایہ دار ڈھانچہ بھی نصب کیا گیا، جسے 1967 کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کے صحن میں ایک آبادکار نے عبرانی مذہبی رسومات کے ساتھ منگنی کی تقریب بھی منعقد کی، جبکہ جمعے کے روز نمازیوں اور اسلامی وقف کے عملے پر سکیورٹی پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔
وزارت اوقاف نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے القبلی مصلیٰ اور قبۃ الصخرہ کے اطراف بھی کارروائیاں کیں اور بیت المقدس کے مفتی اعظم اور مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ محمد حسین کو بھی عارضی طور پر حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ میں الخلیل کی مسجد ابراہیمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں گزشتہ ماہ 155 مرتبہ اذان دینے سے روکا گیا۔ وزارت کے مطابق اسرائیلی حکام نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ پابندیاں عائد کیں، جبکہ کم از کم 195 اسرائیلی فوجیوں نے مسجد کے احاطے میں داخل ہو کر کارروائیاں کیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مسجد ابراہیمی کا مشرقی دروازہ بدستور بند رکھا گیا، جبکہ اشرفیہ زاویہ پر بھی رواں برس کے آغاز سے متعدد مرتبہ چھاپے مارے گئے۔
وزارت اوقاف کے مطابق جولائی کے دوران کئی دیگر مساجد بھی حملوں کی زد میں رہیں۔ مسافر یطا میں واقع مسجد التقویٰ، طولکرم کی الکور القدیم مسجد اور نابلس کے قصرہ قصبے کی مسجد کو آگ لگا دی گئی، جس سے عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔اسی طرح بیت اُمّر میں حضرت عمر بن خطابؓ کے نام سے منسوب مسجد پر بھی چھاپہ مار کر اس کے اندر موجود سامان کو نقصان پہنچایا گیا۔
فلسطینی وزارت اوقاف نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر کہا کہ ان اقدامات کا مقصد اسلامی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا اور نئی زمینی حقیقت مسلط کرنا ہے۔ وزارت نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔





