(بشکریہ بین الاقوامی میڈیا)
غزہ کے علاقے الصبرہ میں 2023 کی بمباری میں جاں بحق ہونے والے دو فلسطینی خاندانوں کے 112 شہداء کی باقیات کئی ماہ بعد ملبے سے نکالی گئیں، جنہیں اجتماعی نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ شہداء میں 40 بچے، 38 خواتین اور 7 معذور افراد شامل ہیں۔
یہ اجتماعی تدفین شہری دفاع اور ریسکیو ٹیموں کی کئی روز تک جاری رہنے والی مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہوئی۔ امدادی اہلکاروں نے محدود وسائل اور خطرناک زمینی حالات کے باوجود ملبے سے شہداء کی باقیات نکالنے کا کام مکمل کیا۔
شہری دفاع کے مطابق الصبرہ کے ایک رہائشی بلاک میں جاری سرچ آپریشن 136 گھنٹے تک مسلسل جاری رہا، جس کے دوران تمام دستیاب باقیات برآمد کی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق شہداء میں 40 بچے ، 38 خواتین ، 7 معذورافراد شامل ہیں، جو اس سانحے میں شہری آبادی کے بھاری جانی نقصان کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ واقعہ 23 نومبر2023 کو پیش آیا تھا، جب پہلی جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل الصبرہ میں الحساينہ اور ابو شریعہ خاندانوں کے رہائشی کمپاؤنڈ کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد لاشیں ملبے تلے دب گئیں۔
علاقے میں طویل عرصے تک جاری عسکری کارروائیوں اور خطرناک سکیورٹی صورتحال کے باعث امدادی ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ سکیں۔ حالیہ دنوں میں رسائی ممکن ہونے کے بعد ملبہ ہٹانے اور باقیات نکالنے کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد تمام شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کرکے انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔





