چیوننگ اسکالرشپ جیتنے والی پہلی بھارتی ایسڈ اٹیک سروائیور، ریشم فاطمہ کی متاثرکن کہانی

Published On: 05 August, 2026 04:57 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
چیوننگ اسکالرشپ جیتنے والی پہلی بھارتی ایسڈ اٹیک سروائیور، ریشم فاطمہ کی متاثرکن کہانی

(فوٹوانسٹاگرامگریب)

تیزاب حملے کا شکار ہونے والی ریشم فاطمہ برطانیہ کی چیوننگ اسکالرشپ حاصل کرنے والی بھارت کی پہلی ایسڈ اٹیک سروائیور بن گئی ہیں۔ وہ لندن اسکول آف اکنامکس میں ماسٹرز کریں گی۔ ان کی حوصلہ افزا جدوجہد کی مکمل کہانی پڑھیں۔

بعض کہانیاں صرف کامیابی کی نہیں ہوتیں، بلکہ حوصلے، صبر اور زندگی سے محبت کی ایسی داستان بن جاتی ہیں جو لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوتی ہیں۔ یہ کہانی ہے ایسڈ اٹیک سروائیور ریشم فاطمہ کی...

ایک ایسی لڑکی، جس کی زندگی صرف سترہ برس کی عمر میں ہمیشہ کے لیے بدل گئی، مگر جس نے اپنے خوابوں کو مرنے نہیں دیا۔1997 میں جمشید پور میں پیدا ہونے والی ریشم ایک عام طالبہ تھیں۔ ان کے خواب بھی عام طلبہ جیسے تھے۔ وہ پڑھنا چاہتی  تھیں، آگے بڑھنا چاہتی تھیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتی تھیں۔

لیکن 2014 کی ایک صبح ان کی زندگی کا رخ اچانک بدل گیا۔ ریشم لکھنؤ میں اپنے نانا نانی کے گھر رہتی تھیں۔ کوچنگ کلاس ختم ہونے کے بعد ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے انہیں گھر چھوڑنے کی پیشکش کی۔ ریشم نے اعتماد کیا، کیونکہ وہ خاندان کا فرد تھا لیکن راستہ گھر کی طرف نہیں، ایک خوفناک انجام کی طرف جا رہا تھا۔

ہائی وے پر گاڑی روک کر اس شخص نے ریشم پر تیزاب کی پوری بوتل انڈیل دی۔چند لمحوں میں ان کا چہرہ، جسم اور مستقبل سب کچھ آگ کی لپیٹ میں محسوس ہونے لگا۔
ریشم کو پہلے لگا شاید ان پر پٹرول پھینکا گیا ہے، مگر چند سیکنڈ بعد جسم جلنے لگا تو حقیقت سامنے آ گئی۔

وہ لمحہ ان کے لیے کٹھن تھا ۔ ریشم کے مطابق حملہ آور نے ان پر چاقو بھی تان دیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ خود کو چھڑایا اور جان بچانے کے لیے بھاگ نکلیں۔

شدید تکلیف کے عالم میں ایک رکشہ ڈرائیور نے ان کی مدد کی بعد میں پولیس اسٹیشن پر لوگوں کا ہجوم تو جمع تھا، لیکن کوئی انہیں اسپتال لے جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

آخرکار ایک نامعلوم بزرگ آگے آئے، انہیں اسپتال پہنچایا ۔ یہ سفر صرف اسپتال تک نہیں تھا... یہ ایک نئی زندگی کی شروعات تھی۔ آئندہ کئی برس آپریشن تھیٹر، اسپتالوں، درد، دواؤں اور مسلسل سرجریوں میں گزرے۔

دوست کم ہوتے گئے، سماجی تعلقات محدود ہوتے گئے، مگر ایک چیز نہیں بدلی... علم حاصل کرنے کا جذبہ۔
ریشم نے گھر بیٹھ کر پڑھائی جاری رکھی اور بارہویں جماعت سائنس میں 87 فیصد نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوئیں۔

اس کے بعد انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے فزکس میں آنرز کیا ۔ ریشم نے ابتدا میں سول سروس میں جانے کا ارادہ کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا۔

2015 میں انہیں غیرمعمولی بہادری پر بھارت کا اعلیٰ قومی بہادری ایوارڈ بھی ملا۔لیکن ریشم کے لیے اصل کامیابی ایوارڈ نہیں تھی...اصل کامیابی یہ تھی کہ لوگ ان کے زخم نہیں، ان کی صلاحیت کو دیکھیں۔

اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے 2023 میں ابراہ فاؤنڈیشن(Ebrah Foundation) قائم کی، جہاں نوجوان مسلم لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور مالی خودمختاری کے لیے رہنمائی دی جاتی ہے۔ریشم کا ماننا ہے کہ اگر ایک لڑکی معاشی طور پر مضبوط ہو جائے تو وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتی ہے۔

2024 میں ان کی شادی اصغر نامی نوجوان سے ہوئی، جنہوں نے انہیں چیوننگ اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کی ترغیب دی۔


اور پھر...وہ دن آیا جس نے ان کی برسوں کی جدوجہد کو ایک نئی منزل دے دی۔ریشم فاطمہ برطانیہ حکومت کی چیوننگ اسکالرشپ( Chevening Scholarship) حاصل کرنے والی بھارت کی پہلی ایسڈ اٹیک سروائیور بن گئیں۔

اب وہ لندن اسکول آف اکنامکس میں جینڈر، ڈیولپمنٹ اینڈ گلوبلائزیشن میں ماسٹرز کریں گی۔لیکن ان کی منزل صرف اپنی تعلیم مکمل کرنا نہیں۔وہ چاہتی ہیں کہ ان جیسی ہزاروں لڑکیاں بھی خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

ریشم کہتی ہیں کہ یہ ایسا صدمہ نہیں جسے آپ پیچھے چھوڑ دیں۔ یہ ہر روز آپ کے ساتھ رہتا ہے لیکن زندگی میں آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے... اسے قبول کریں اور اپنے خوابوں کی طرف چلتے رہیں۔

یہ الفاظ صرف ایک متاثرہ خاتون کے نہیں...یہ اس انسان کی آواز ہیں جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ تیزاب چہرہ تو جلا سکتا ہے، مگر ارادے، علم اور خواب کبھی نہیں جلا سکتا۔