(فوٹو اے آئی)
ترکی کی فضائیہ کی تاریخ میں پہلی بار کرنل اوزلم کاراپنار کو بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ صدر رجب طیب اردوان کی منظوری کے بعد وہ ترک فضائیہ کی پہلی خاتون جنرل بن گئی ہیں۔
ترکی کی مسلح افواج کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب ترک فضائیہ میں پہلی بار ایک خاتون افسر کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ ترک میڈیا کے مطابق کرنل اوزلم کاراپنار (Özlem Karapınar) کو سپریم ملٹری کونسل کے سالانہ فیصلوں کے تحت بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ اس فیصلے کی باقاعدہ منظوری ترک صدررجب طیب اردوان( Recep Tayyip Erdoğan) نے دی۔
اس ترقی کے ساتھ ہی اوزلم کاراپنار ترک فضائیہ کی تاریخ میں جنرل کے عہدے تک پہنچنے والی پہلی خاتون افسر بن گئی ہیں، جسے ترکی کی دفاعی اور عسکری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ترک مسلح افواج میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار اور اعلیٰ عسکری قیادت میں ان کی نمائندگی کو مزید مضبوط بنانے کی علامت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اوزلم کاراپنار کی ترقی مستقبل میں عسکری شعبے میں خدمات انجام دینے والی خواتین کے لیے ایک اہم مثال ثابت ہو سکتی ہے۔
ترکی میں سپریم ملٹری کونسل ہر سال اعلیٰ فوجی افسران کی تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں سے متعلق فیصلے کرتی ہے، جنہیں صدر کی منظوری کے بعد نافذ کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اوزلم کاراپنار نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ابتدا میں ایجے یونیورسٹی کے فیکلٹی آف میڈیسن میں داخلہ حاصل کر لیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ترک فضائیہ اکیڈمی میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے طب کے شعبے کے بجائے فضائیہ میں کریئر بنانے کا فیصلہ کیا اور عسکری تربیت اختیار کر لی۔
اپنے فوجی کریئر کے دوران اوزلم کاراپنار نے ترک فضائیہ میں کئی برس تک اسٹاف افسرکے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہیں مختلف عسکری یونٹس، ہیڈکوارٹرز اور اہم انتظامی ذمہ داریوں پر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیں۔
ان کی بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر ترقی سپریم ملٹری کونسل کے سالانہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے تحت عمل میں آئی۔سپریم ملٹری کونسل ترکی میں فوجی تقرریوں، ترقیوں اور دیگر اہم عسکری امور سے متعلق فیصلے کرنے والا اعلیٰ ادارہ ہے۔ اس ادارے کی روایت سلطنت عثمانیہ کے دور سے چلی آ رہی ہے۔
پہلی سپریم ملٹری کونسل 1837 میں سلطان محمود دوم کے دور حکومت میں قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد فوجی قوانین مرتب کرنا، فوجی امور سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا اور مغربی فوجی نظام سے استفادہ کرنا تھا۔
سلطنت عثمانیہ کے آخری دور میں اس ادارے کی ساخت میں مختلف اوقات میں تبدیلیاں کی گئیں اور بعض اوقات اسے ختم بھی کیا گیا۔ تاہم 1923 میں جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد جدید سپریم ملٹری کونسل کو 1925 میں باضابطہ طور پر دوبارہ قائم کیا گیا۔





