بہار:مدرسہ عارفیہ سنگرام میں یوم آزادی کی پُروقار تقریب

Published On: 16 August, 2026 12:03 AM

Zoya Ehtram : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بہار:مدرسہ عارفیہ سنگرام میں یوم آزادی کی پُروقار تقریب

مدرسہ عارفیہ سنگرام، مدھوبنی میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کے بعد طلبہ نے اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں تقاریر اور نظمیں پیش کیں۔ تقریب میں آزادی کی جدوجہد، قومی یکجہتی، حب الوطنی، آئین اور تعلیم پر روشنی ڈالی گئی۔

یوم آزادی کے موقع پرمدرسہ عارفیہ سنگرام ،مدھوبنی میں ہفتہ کو مختلف پروگراموں کاانعقاد کیا گیا۔ تقریب کا آغازپرچم کشائی سے ہوا۔پرچم کشائی مدرسے کے استاذ قاری عبدالصمد نے کی۔ اس موقع پر مدرسے کے ناظم مفتی انوار سمیت اساتذہ، طلبہ اور مقامی افراد موجود رہے۔ پرچم کشائی کے بعد طلبہ کی جانب سے تقاریر اور نظموں کا سلسلہ شروع ہوا۔

 طلبہ نے اردو، عربی، ہندی اور انگریزی میں تقریریں پیش کیں۔ درجہ اعدادیہ (فارسی) کے طالب علم حافظ رضوان اور درجہ حفظ کے طالب علم حافظ تمنا سمیت دیگر طلبہ نے اپنی تقاریر کے ذریعے آزادی کی جدوجہد، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں، قومی یکجہتی، حب الوطنی، آئین، تعلیم اور ملک کی تعمیر و ترقی جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔طلبہ نے مختلف نظمیں بھی پیش کیں،جنہیں حاضرین نے سراہا۔ایک طالب علم نے قریب پچاس ایسے علماء کا تذکرہ کیا جو جنگ آزادی میں پیش پیش تھے۔

اس موقع پرمدرسے کے ناظم مفتی انواراحمد نے طلبہ اورعوام سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ عارفیہ سنگرام کی تاریخی نسبت اورآزادی کی جدوجہد سے اس کے تعلق پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسہ عارفیہ سنگرام 1374 ہجری، مطابق 1953 عیسوی میں قائم ہوا تھا اورآزادی کے چند ہی برس بعد اس ادارے نے علم کی روشنی پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا۔

مفتی انواراحمد نے کہا کہ مدرسے کے سابق صدرمولانا لطف الرحمان مجاہدِ آزادی رہے ہیں اور وہ حضرت مولاناحسین احمد مدنی کے شاگرد تھے ۔ ان کے مطابق مولانا لطف الرحمان کو حضرت مدنی کے ساتھ انگریز حکومت نے سہارنپور جیل میں قید بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعتبار سے مدرسہ عارفیہ کی نسبت براہِ راست مجاہدینِ آزادی کی جدوجہد سے جڑتی ہے۔

ناظم مدرسہ نے طلبہ کی کثیر لسانی صلاحیتوں کو بھی پروگرام کا اہم پیغام قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں طلبہ نے ہندی ، انگریزی عربی اور  اردو میں خطاب کیا۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ زبان کسی ایک فرد ، طبقے یا مذہب کی اجارہ داری نہیں ہے ۔ تمام زبانیں سب کی ہیں جو شخص کسی زبان کو سیکھتا اور بولتا ہے، وہ زبان اس کی بھی ہے۔ کسی زبان کو کسی مخصوص مذہب سے جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ مختلف زبانیں سیکھنے اور ملک کے تنوع، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی تلقین کی ۔ پروگرام کے اختتام پر گاؤں کے ایک شخص کی جانب سے مدرسے کے ناظم مفتی انوار اور استاذ الاساتذہ قاری عبدالصمد  اور دیگر استاذہ کو تہنیت پیش کیا ۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے ساتھ یومِ آزادی کی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔