افغانستان میں طالبان حکومت کے پانچ سال، امن کے دعوے مگر خواتین کے حقوق کا بحران برقرار

Published On: 16 August, 2026 09:57 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
افغانستان میں طالبان حکومت کے پانچ سال، امن کے دعوے مگر خواتین کے حقوق کا بحران برقرار

(فوٹواے پی)

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں۔ 15 اگست 2021 کو امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے دوران طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو ملک میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے اور امن کی امید پیدا ہوئی، تاہم پانچ برس بعد بھی افغانستان کو شدید معاشی، تعلیمی اور انسانی بحرانوں کا سامنا ہے۔

 طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا۔ امریکی اور دیگر نیٹو افواج کے تقریباً دو دہائیوں پر محیط فوجی مشن کے اختتام اور  افراتفری میں انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد ملک چھوڑنے کی کوشش کرتے نظر آئے تھے۔

پانچ سال بعد کابل کے بعض شہری ملک میں امن و امان کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب حکومت کو سکیورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل کے حل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈپریس کی رپورٹ کے مطابق کابل کے 30 سالہ محمد قاسم نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال نسبتاً امن و سلامتی میں گزرے ہیں، تاہم حکومت سے ان کی سب سے بڑی امید نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

خواتین اور بچیوں کے حقوق پر پابندیاں برقرار
اقتدار سنبھالنے سے قبل طالبان نے خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کی اجازت دینے کا عندیہ دیا تھا، تاہم اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور بچیوں پر متعدد پابندیاں عائد کردی گئیں۔

طالبان نے لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے تعلیم پر پابندی عائد کی ۔ اس کے بعد  خواتین پر یونیورسٹی کے دروازے بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیئے گئے۔ مزید خواتین کو جم، پارکس اور عوامی حمام سمیت متعدد مقامات پر جانے سے بھی روک دیا گیا۔ اس کے علاوہ خواتین ’محرم ‘ کے بغیر طویل سفرنہیں کرسکتیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جن میں شریعت کی تشریح کے مطابق خواتین اور بچیاں اسکولوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کرسکیں، تاہم عملی طور پر یہ پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔
 

اقوام متحدہ کی خواتین کے حقوق پر تشویش
اقوام متحدہ نے افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر پابندیاں ختم کیے بغیر ملک میں پائیدار استحکام اور عالمی برادری میں دوبارہ مؤثر انضمام ممکن نہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں تنازع میں کمی نے کئی شہریوں کو فائدہ پہنچایا ہے  لیکن خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیاں ملک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق ادارے ’یو این ویمن‘ نے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کی صورتحال کو دنیا کا شدید ترین خواتین کے حقوق کا بحران قرار دیا ہے۔

ادارے کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران خواتین اور بچیوں کو تعلیم، روزگار، عوامی زندگی، انصاف اور صحت کی سہولیات سے دور رکھنے کا عمل مزید سخت ہوا ہے، جس سے افغانستان کے سماجی اور معاشی مستقبل کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

 24 لاکھ بچیاں ثانوی تعلیم سے محروم
یونیسکو کے مطابق افغانستان میں تقریباً 24 لاکھ بچیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 2 لاکھ زیادہ تعداد ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی پابندیوں نے افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تعلیم کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
 
ملک میں صرف بچیوں کی تعلیم ہی بحران کا شکار نہیں بلکہ مجموعی تعلیمی نظام بھی مشکلات سے دوچار ہے۔ یونیسکو کے مطابق پرائمری اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 53 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ متعدد تعلیمی اداروں میں پانی، صفائی اور حرارت جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں۔قدرتی آفات کے باعث بھی افغانستان میں سیکڑوں اسکول بند ہوچکے ہیں۔
 

طالبان کا سلامتی اور معاشی حصولیابیوں پرور
طالبان حکومت کے نائب وزیر اطلاعات و ثقافت مولوی حیات اللہ مہاجر فراحی نے حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طالبان انتظامیہ نے ملک میں سکیورٹی بہتر کی، کرنسی کو مستحکم کیا، اس کے ساتھ ہی ساتھ بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائی گئی اور صنعتی پارکس قائم کیے گئے جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان کو چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ان کے مطابق حکومت نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

خواتین اور بچیوں کی تعلیم کے سوال پر نائب وزیر نے راست اورواضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ جامعات میں سرمایہ کاری ماضی کے مقابلے میں زیادہ کی گئی ہے اور حکومت تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

طالبان عہدیدار نے افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کو غیر مستحکم ظاہر کرنے کی کوشش قرار دیا۔

عالمی تنہائی بڑا چیلنج

طالبان حکومت کو عالمی سطح پر اب بھی محدود سفارتی قبولیت حاصل ہے۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ حکومت تقریباً 40 ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور افغانستان نے باضابطہ عالمی شناخت کے لیے ضروری شرائط پوری کردی ہیں۔طالبان انتظامیہ کو اس وقت باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا واحد ملک روس ہے۔

 غذائی بحران اورامداد میں کمی
افغانستان کا انسانی بحران بھی سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق ملک کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت تشویشناک سطح تک پہنچ چکی ہے اور امدادی فنڈز میں کمی کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے کی خصوصی نمائندہ سارہ فرگوسن نے عطیہ دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان خواتین اور بچیوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔ ان کے مطابق ادارے کو درکار فنڈز کا صرف تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہی حاصل ہو رہا ہے۔

افغان شہریوں کا حکومت سے مطالبہ
کابل کے شہریوں میں بعض افراد طالبان حکومت کی جانب سے امن و استحکام کو سراہتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملک کو اب تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے۔ کابل کے 38 سالہ دوست محمد خان نے کہا کہ افغانستان کو ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی ضرورت ہے، اس لیے تمام شعبوں کو فعال رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے خواتین کے لیے شریعت کے مطابق لباس کے ضابطے کے ساتھ اسکول جانے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

طالبان حکومت کی پانچ سالہ حکمرانی ایسے وقت میں پانچویں سال میں داخل ہوئی ہے جب افغانستان میں مسلح تنازع میں کمی اور سکیورٹی میں بہتری کے باوجود خواتین کے حقوق، تعلیم، روزگار، انسانی امداد اور عالمی سطح پر قبولیت جیسے مسائل بدستور حکومت کے لیے بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔