(فوٹورائٹرز)
امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کی تصدیق کردی ہے۔ فاکس نیوز کو دیئے انٹرویومیں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ امریکی حکام نے پاسداران انقلاب سے براہ راست بات کی ہے۔ انھوں نے عمان کو بھی دھمکی دی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی تفنگ اور توپ سے زیادہ صدر ٹرمپ کی زبان چلی ۔ سوشل میڈیا ،ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل میڈیا ، ہر جگہ ٹرمپ کا جلوہ تھا ۔ وہ اب بھی بہت مصروف ہیں اورمیڈیا کو بھی مصروف رکھ رہے ہیں ۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے شائد ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب ٹرمپ میڈیا سے مخاطب نہ ہوئے ہوں ۔ 60 روزہ جنگ بندی کی مقررہ مدت آج جب ختم ہوئی تو صدر ٹرمپ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ۔
فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطے کی تصدیق کی ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے ایرانی قیادت سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی حکام آئی آرجی سی کے بعض حکام سے براہ راست بیک چینل رابطے میں ہیں۔ مفاہمتی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود صدرٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس کوئی طے شدہ ڈیڈ لائن نہیں اور وہ مذاکرات کے معاملے میں جلدی میں نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے ایرانی حکام کے بارے میں کہا کہ وہ ’اچھے پوکر کھلاڑی‘ ہیں، تاہم ان کے مطابق اہران کو اس تنازع میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار رکھنے کے قابل نہیں ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے ایران سے اپنی بنیادی شرط پوری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر پسپائی اختیار کرنا ہوگی۔
عمان کو بھی دی دھمکی
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں عمان کے کردار کے حوالے سے بھی انتہائی سخت لہجہ اختیار کیا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر عمان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے تو کیا ہوگا، تو امریکی صدر نے عمان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔
اسرائیل کے انتخابات سے دور رہنے کا عندیہ
اسرائیل کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں صدر ٹرمپ کے لیے اسرائیلی انتخابی عمل سے دور رہنا زیادہ مناسب ہوگا، تاہم انہوں نے ساتھ ہی کسی امیدوار کی حمایت یا توثیق کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں حملے نہیں کرنے چاہییں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق منصوبے کے اگلے مرحلے پر پیش رفت کی کوششیں جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ واشنگٹن کے حماس کے ساتھ اپنے رابطے ہیں اور ان کے مطابق حماس اپنے ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے اور حماس کے غیر مسلح ہونے کی صورت میں امن کے امکانات پر بھی بات کی۔
’مڈٹرم انتخابات پرنگاہ نہیں،
ایران کی جانب سے مبینہ طور پر وقت گزارنے کی حکمت عملی اختیار کرنے اور امریکہ میں آئندہ مڈٹرم انتخابات تک موجودہ حکومت کو سیاسی دباؤ میں رکھنے کی قیاس آرائیوں کو بھی ٹرمپ نے مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات ان کی سوچ کا حصہ نہیں اور بطور کمانڈر ان چیف ان کی فوجی حکمت عملی کا تعین ملکی سلامتی کے مفادات کے تحت ہوتا ہے۔
ایرانی جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، جنگ بندی کی مدت اور ممکنہ مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان صورتحال مزید اہمیت اختیار کرسکتی ہے۔





