ایران جنگ کا اثر،ٹرمپ کی مقبولیت موجودہ دور کی کم ترین سطح پر:سروے

Published On: 18 August, 2026 11:33 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ایران جنگ کا اثر،ٹرمپ کی مقبولیت موجودہ دور کی کم ترین سطح پر:سروے

(فوٹو اے آئی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ رائٹرز/اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق ان کی صدارتی کارکردگی سے صرف 33 فیصد امریکی کی مطمئن ہیں۔ سروے میں 64 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ایران جنگ جب سے شروع ہوئی ہے اس کے بعد سے ہی امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مسلسل کمی درج کی جارہی ہے۔ اگست کے مہینے میں یہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ ان کی صدارتی کارکردگی کی منظوری کی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ان کے دوسرے میعاد کی کم ترین سطح ہے۔ رائٹرز اور اِپسوس(Reuters/Ipsos poll) کے تازہ سروے کے مطابق 64 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چار روز تک جاری رہنے والے سروے میں صرف 33 فیصد افراد نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔ اس سے قبل ہونے والے سروے میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 35 فیصد تھی۔ نئی شرح ان کے موجودہ دور کی سب سے کم سطح ہونے کے ساتھ ساتھ دسمبر 2017 میں ان کے پہلے دور میں ریکارڈ کی گئی کم ترین شرح کے برابر ہے۔

تازہ سروے میں 40 فیصد رجسٹرڈ ووٹر نے امیگریشن پالیسی کے معاملے میں ریپبلکن پارٹی کو بہتر قرار دیا جبکہ 38 فیصد نے ڈیموکریٹس کو ترجیح دی۔ یہ فرق ٹرمپ کے موجودہ دور میں سب سے کم ہے۔ جنوری 2025 میں ریپبلکنز کو اس معاملے میں ڈیموکریٹس پر 26 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

 آن لائن کیے گئے اس سروے میں امریکہ بھر سے 1166 افراد نے حصہ لیا ۔ سروے کے نتائج میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس تک کمی بیشی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق 80 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران میں امریکہ کی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے ۔ ڈیموکریٹس میں یہ رائے رکھنے والوں کی شرح 87 فیصد جبکہ ریپبلکن ووٹر میں 71 فیصد ہے۔ صرف 16 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔

تازہ سروے میں 38 فیصد ووٹر نے کہا کہ ڈیموکریٹس معیشت بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکنز کو ترجیح دی۔ رہن سہن کے اخراجات پر قابو پانے کے معاملے میں بھی ڈیموکریٹس کو بہتر ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچے تو ملک کی تقریباً نصف آبادی ان کی صدارت کی حمایت کرتی تھی، تاہم ایران کے خلاف جنگ کے بعد رواں برس ان کی مقبولیت کو شدید دھچکا لگا۔ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا حکم دیا تھا جبکہ اسرائیل بھی اس کارروائی میں امریکہ کا اتحادی تھا۔

ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا، جس کے باعث امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ پٹرول مہنگا ہونے سے امریکی گھرانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے اور اس صورتحال نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔

ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی پر قابو پانے اور طویل جنگوں سے امریکہ کو دور رکھنے کے وعدے کیے تھے۔ ایران کے خلاف کارروائی شروع کرتے وقت انہوں نے کہا تھا کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گا، تاہم ایران کی جانب سے مزاحمت جاری رہنے کے باعث صورتحال توقع کے مطابق جلد ختم نہیں ہوسکی۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی بڑی حد تک متاثر رہی ہے، اگرچہ حالیہ عرصے میں جنگ کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے۔


ایران کے ساتھ تنازع کے دوران ٹرمپ نے کبھی جنگ کو مزید بڑھانے کی دھمکی دی اور کبھی امن معاہدہ جلد ہونے کے امکانات ظاہر کیے۔ تاہم تازہ سروے میں صرف ہر پانچ میں سے ایک امریکی شہری نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اس کے اخراجات اور مشکلات کے مقابلے میں درست فیصلہ تھا۔ ریپبلکنز میں بھی صرف نصف افراد نے جنگ کو قابلِ قبول قرار دیا۔

معیشت کے معاملے میں بھی ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو دباؤ کا سامنا ہے۔ رواں ماہ رائٹرز اور اِپسوس کے ایک سروے میں تقریباً ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ووٹر نے معیشت سنبھالنے کے معاملے میں ریپبلکنزکے مقابلے میں ڈیموکریٹس کو بہتر قرار دیا تھا۔

امیگریشن کے معاملے میں ریپبلکن پارٹی اب بھی ڈیموکریٹس سے معمولی برتری رکھتی ہے۔ ٹرمپ کے دور میں امریکی سرحد پر غیر قانونی آمد میں نمایاں کمی ہوئی اور حکومت نے ملک بھر میں امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کیں۔ تاہم ان کارروائیوں کے دوران ہلاکت خیز جھڑپوں اور زیر حراست افراد کی تعداد میں اضافے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کے باعث ریپبلکنز پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے۔