(فوٹو اے آئی)
پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیاہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور عظمیٰ خان کو ساتھ رہنے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر عمرخان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پرہلچل مچی ہے۔عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب تک ان کا علاج پمز میں ہورہا تھا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی والی سہ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ نے عمران خان کو آج(منگل) ہی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ عدالت نے عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی ان کے ہمراہ اسپتال میں موجود رہنے کی اجازت دی ہے۔ مزید ہفتے میں ایک بار عمران خان کے اہلخانہ کو ان سے ملاقات کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے ۔ عدالت نے عمران خان کے ڈاکٹر اور اہلخانہ کو میڈیکل رپورٹس میڈیا سے شیئرنہ کرنے اور علاج پر سیاست نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے ایک دن قبل عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی جس کے بعدعدالت نے یہ حکم صادرکیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں اگست 2023 سے قید ہیں ۔
حکم نامہ جاری کرنے سے قبل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید کا عظمیٰ خان کے وکیل سے مکالمہ ہوا۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ آپ بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال میں ہی کیوں منتقلی چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پمز(Pims) میں تو انہیں اکثر لے کر جایا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ نجی اسپتال کے اخراجات کون ادا کرے گا؟ جس پر بانی کی بہن عظمیٰ خان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ نجی اسپتال کے اخراجات ہم ادا کریں گے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ تحریکِ انصاف اسپتال کے باہر کسی قسم کے جلسے جلوس نہ ہونے کو یقینی بنائے گی۔





