عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لے جانے پر تنازع، حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

Published On: 21 August, 2026 04:35 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لے جانے پر تنازع، حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

(فوٹورائٹرز۔اے پی)

عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز لے جانے پر اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی نے حکومت پر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ حکومت نے سکیورٹی خدشات کو وجہ قرار دیا۔

عمران خان پرپاکستان کی سیاست میں ہلچل مچی ہے۔ سپریم کورٹ کے احکام کوپہلے حکومت نے چیلنج کیا اور اب عمران خان کو شفاء اسپتال کے بجائے سرکاراسپتال لے جانے کے معاملے پرتنازع کھڑا ہوا گیا ہے۔

عمران خان کے اہل خانہ اورپارٹی نے حکومت پر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے ۔ عمران خان کو بیتی  رات اسلام آباد کے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (Pims) لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔

 پی ٹی آئی اوراہلِ خانہ کا اعتراض
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ اس وقت پمز میں موجود تھیں جب عمران خان کو رات گئے وہاں لایا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران شکایت کی کہ انہیں تنہائی میں رکھا گیا، جو ان کے مطابق ذہنی اذیت کے مترادف ہے۔

عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ انہیں شفاء انٹرنیشنل اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں وہ علی الصبح تک عمران خان کا انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔

طبی معائنے کے بعد عمران خان کو جیل کیاگیا منتقل
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ڈاکٹروں کے معائنے کے بعد عمران خان کو واپس جیل منتقل کر دیا گیا اور طبی طور پر انہیں صحت مند قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سرکاری اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ ان کے مطابق شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے باہر عمران خان کے حامیوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی تھی، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہو گئی تھی۔

 سپریم کورٹ کے احکام کی خلاف ورزی۔پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر لیڈر سہیل آفریدی نے بھی حکومت کے اقدام کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت نے واضح طور پر عمران خان کے طبی معائنے کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کیا حکم دیا تھا؟
سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کا شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے طبی معائنہ کیا جائے۔ بورڈ میں مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کے علاوہ عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جمعرات کو حکومتی وزیر طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا  کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ جیل قوانین کے تحت قیدیوں کو طبی سہولیات جیل میں فراہم کی جاتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔

 عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش 
عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش جنوری کے آخر میں اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب ان کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد متاثر ہو چکی ہے۔ حکومت نے اس دعوے کی تردید کی تھی اور بعد میں حکام کا کہنا تھا کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔

واضح رہے کہ  عمران خان کو اپریل 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ 2023 سے جیل میں ہیں۔