عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ،پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی عرضی داخل کی

Published On: 22 August, 2026 05:41 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ،پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی عرضی داخل کی

(فوٹورائٹرز)

عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر پی ٹی آئی اور حکومت آمنے سامنے آگئے ہیں ۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے عمران خان کو دوبارہ شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی۔

پاکستان میں عمران خان کی اسپتال منتقلی پر تنازع شدت اختیار کرگیا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے حکومت پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی عرضی داخل کردی ہے۔

پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہلخانہ کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود انہیں شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے بجائے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں فوری طور پر دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے جائیں، انہیں ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے طلب کیا جائے اور عمران خان کو علاج کے لیے فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے احکامات دیے جائیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے دو روز کے اندر اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے نجی اسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے عمران خان کے لیے جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دینے، ان کے اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل کے بجائے سرکاری اسپتال منتقل کرنا سپریم کورٹ کے حکم کی روح کے منافی ہے، جبکہ طبی معائنے کے فوراً بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کرنا بھی عدالتی ہدایات پر سوالات اٹھاتا ہے۔

 حکومت کا موقف 
عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل کے بجائے PIMS منتقل کیے جانے پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے دوران سکیورٹی انتظامات اور دیگر متعلقہ امور کو مدنظر رکھنا ضروری تھا، تاہم پی ٹی آئی اس وضاحت سے مطمئن نہیں اور اس نے معاملہ براہِ راست سپریم کورٹ کے سامنے اٹھا دیا ہے۔ اب توجہ سپریم کورٹ میں دائر پی ٹی آئی کی توہینِ عدالت کی درخواست پر ہونے والی کارروائی پر مرکوز ہے۔