(فوٹو اے آئی)
نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تیاری ہے ۔ وزیر اعظم کرسٹوفر لکسون نے انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور فیس بک سمیت بڑے پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق لازمی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
نیوزی لینڈ، پڑوسی ملک آسٹریلیا کی راہ پر ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن ( New Zealand’s Prime Minister Christopher Luxon) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے مجوزہ قانون پیش کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نوجوان نسل کو نقصان دہ مواد، لت لگانے والی ٹیکنالوجی اور ایسے دباؤ کا سامنا کرا رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے وہ پوری طرح تیار نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسٹوفرلکسون نے پیرکو کہا کہ سوشل میڈیا سے نوجوانوں کی خاندانی زندگی، ذہنی صحت، نیند اور تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔ ان کے مطابق 2025 کی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا کہ نیوزی لینڈ کے ایک تہائی نوجوان روزانہ کم از کم پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔
انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور فیس بک بھی پابندی کے دائرے میں
مجوزہ قانون کے تحت انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے کہ ان کے صارفین کی عمر 16 سال سے زیادہ ہو۔
عمر کی تصدیق کے لیے موجودہ اکاؤنٹ معلومات، چہرے سے عمر کا اندازہ لگانے والی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل شناختی خدمات یا سرکاری شناختی دستاویزات استعمال کی جا سکتی ہیں۔
تاہم واٹس ایپ جیسے میسجنگ پلیٹ فارمز، روبلوکس جیسے آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز اور تعلیمی و پیداواری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کی ایپس، جن میں چیٹ جی پی ٹی، جیمنی اور کوپائلٹ شامل ہیں، مجوزہ پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
بچوں یا والدین پر نہیں ہوگا جرمانہ
مجوزہ قانون میں بچوں یا ان کے والدین کے لیے کسی سزا یا جرمانے کی تجویز نہیں دی گئی۔ تاہم پابندی کی شرائط پوری نہ کرنے والے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
وزیر اعظم لکسن کے مطابق وہ پلیٹ فارمز جو بچوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں، انہیں اپنے نیٹ ورکس سے لاحق خطرات کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی پابندی بھی عائد کی جائے گی۔
حکمراں اتحاد میں قانون پراختلاف
مجوزہ قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لیے حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ لکسن کی قیادت میں حکومتی اتحاد میں شامل دو جماعتوں، لبرٹیرین اے سی ٹی اور پاپولسٹ این زیڈ فرسٹ، نے اعلان کیا ہے کہ وہ قانون کے خلاف ووٹ دیں گی۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی کے لیڈر کرس ہپکنز نے بھی کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ مجوزہ قانون کی حمایت کرے گی یا مخالفت۔ لکسن نے کہا کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل پارلیمنٹ یکم اکتوبر کو تحلیل ہوجائے گی، اس لیے موجودہ پارلیمانی مدت میں اس بل پر ووٹنگ کے لیے کافی وقت نہیں ہے ۔ نیوزی لینڈ میں کسی بل کو قانون بننے کے لیے عام طور پر تین مراحل میں ووٹنگ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
آسٹریلیا کی ڈگر پر نیوزی لینڈ
نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز آسٹریلیا کی جانب سے دسمبر 2025 میں عائد کی گئی دنیا کی پہلی ایسی پابندی کے بعد سامنے آئی ہے۔
آسٹریلیا کے بعد کینیڈا، برازیل اور انڈونیشیا سمیت بعض دیگر ممالک نے بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عمر کی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ کئی ممالک میں اس حوالے سے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں اور بعض والدین نے عمر کی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم رازداری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ ایسی پابندیوں کو چکمہ دیا جا سکتا ہے اور صارفین سے شناختی دستاویزات طلب کرنا پرائیویسی کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔آسٹریلیا میں پابندی نافذ ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے وہاں کے ریگولیٹر کو بتایا تھا کہ 47 لاکھ کے قریب ایسے اکاؤنٹس تک رسائی ختم کی گئی جو 16 سال سے کم عمر بچوں سے منسلک پائے گئے تھے۔
نیوزی لینڈ کی حکومت 2024 میں بھی تمام عمر کے طلبہ کے لیے اسکول کے اوقات میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرچکی ہے۔





