(فوٹو اے آئی)
برطانیہ میں پانی کے مؤثر استعمال کے تعلق سے آگاہی پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ اس مہم کے تحت مسلمانوں کو وضو کے لیے کم پانی استعمال کرنے جبکہ ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو چاول دھوتے وقت پانی بچانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
برطانیہ میں پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور طویل خشک موسم کے پیش نظر حکومت کے واٹر انڈسٹری ریگولیٹر آف واٹ (Ofwat) کی جانب سے مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کو پانی کے استعمال میں کمی کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت مسلمانوں کو وضو کے دوران کم پانی استعمال کرنے جبکہ ایشیاسے تعلق رکھنے والوں کو چاول دھوتے وقت پانی کی بچت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آف واٹ کے تحت چلنے والے واٹر ایفیشنسی اِن فیتھ اینڈ ڈائیورس کمیونٹیز(water efficiency in faith and diverse communities) پروگرام میں مذہبی اور مختلف ثقافتی برادریوں کو پانی کے محتاط استعمال سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں ساؤتھ اسٹافورڈ شائر واٹر،یونیورسٹی آف کیمبرج کی ڈیوینٹی فیکلٹی، کیمبرج سینٹرل مسجد اور دیگر اداروں نے بھی تعاون کیا۔
وضو میں ایک لیٹر پانی کے استعمال کا تجربہ
کیمبرج میں اس پروگرام کے تحت ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، جس میں مقامی مسلمانوں کو وضو کے لیے صرف ایک لیٹر پانی استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی۔
آف واٹ کے مطابق اس تجربے سے معلوم ہوا کہ اگر ایک شخص ایک لیٹر پانی کی بوتل سے وضو کرے تو روزانہ 55 لیٹر تک پانی کی بچت ممکن ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بعض افراد پانچ وقت وضو کے لیے بہتے ہوئے پانی کا استعمال کرتے ہوئے مجموعی طور پر روزانہ 12 لیٹر تک پانی خرچ کرتے ہیں۔
کیمبرج میں کیے گئے اس پائلٹ منصوبے کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 5,900 لیٹر پانی کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس حوالے سے آگاہی کو اسلامی ٹی وی چینلز سمیت دیگر ذرائع سے بڑے پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے، تاہم پانی کی کمپنیوں کو یہ تاثر دینے سے گریز کرنا چاہیے کہ پانی کے ضیاع کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔
چاول دھونے میں پانی بچانے کا مشورہ
پانی کے استعمال میں کمی کے لیے شروع کیے گئے ایک دوسرے منصوبے میں برطانیہ میں مقیم ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو چاول دھوتے اور پکاتے وقت کم پانی استعمال کرنے کی بھی ترغیب دی گئی۔
اس مہم کے ایک حصے میں 2014 کی ماسٹر شیف فاتح معروف شیف پنگ کومبس نے لوگوں کو چاول دھونے کے دوران پانی کی بچت کے طریقے بتائے ۔ ان کے مطابق بعض گھرانوں میں چاول کو پانچ سے سات مرتبہ دھونا عام ہے، تاہم وہ خود چاول صرف دو مرتبہ دھوتی ہیں۔
ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا ضیاع
حکومت کے پروگرام پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمپنیاں عام شہریوں کو پانی کم استعمال کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے اپنی لیکیج اور پرانے انفرااسٹرکچر کے مسائل پر زیادہ توجہ دیں۔
گرین پیس یوکے کی جولائی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں پانی کی لیکیج کے باعث روزانہ تقریباً 2.87 ارب لیٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے، جو تقریباً 1,150 اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کو بھرنے کے برابر ہے۔
تحقیق میں دعویٰ کیا گیاہے کہ پانی کی کمپنیوں کی پائپ لائنوں سے ضائع ہونے والا پانی ہوز پائپ پر پابندی سے بچائے جانے والے پانی سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔
شیڈو منسٹر مائیک وڈ نے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے ضیاع میں کمی ایک قابلِ تعریف مقصد ہے، تاہم اصل مسئلہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کا استعمال ہے۔
آف واٹ کی وضاحت
آف واٹ نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ طویل خشک موسم نے پانی کے مؤثر استعمال کی ضرورت کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ادارے کے مطابق پائلٹ پروجیکٹ پانی کی کمپنیوں، فلاحی اداروں اور مختلف مذہبی گروہوں کے تعاون سے چلایا گیا اور اپریل 2025 میں مکمل ہوگیا تھا۔
آف واٹ کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد کسی فرد کو یہ بتانا نہیں تھا کہ وہ مذہبی عبادات یا ثقافتی رسومات کے حوالے سے کیا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا، بلکہ مختلف برادریوں کو پانی بچانے کے عملی طریقے فراہم کرنا تھا۔
برطانوی حکومت نے جون میں Let's Save Water کے نام سے 7 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی آگاہی مہم بھی شروع کی تھی، جس کا مقصد عوام کو روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیوں کے ذریعے پانی کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔





