سعودی عرب کے الباحہ ریجن میں المعملہ کے تاریخی مقام پر پہلی صدی ہجری سے تعلق رکھنے والی قدیم مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ کھدائی کےدوران مسجد کے علاوہ تاریخی کتبہ، رہائشی و تجارتی عمارتوں، گوداموں، حوضوں اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں۔
سعودی عرب کے الباحہ علاقے میں واقع تاریخی مقام المعملہ میں آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران پہلی صدی ہجری سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم مسجد کے آثار دریافت ہوئے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق یہ اہم دریافت خطے میں ابتدائی اسلامی دور کی مذہبی، سماجی اور تعمیراتی زندگی کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق المعملہ میں آثارِ قدیمہ کی دریافت اور کھدائی کا چوتھا سیزن مکمل ہوگیا ہے۔ اس دوران ماہرین نے تراشے ہوئے گرینائٹ پتھروں سے تعمیر کی گئی قدیم مسجد کے آثار دریافت کیے۔ مسجد کی محراب، داخلی راستوں اور مینار کی ساخت میں ایسی منفرد خصوصیات سامنے آئی ہیں جو ابتدائی اسلامی دور کے مقامی طرزِ تعمیر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
مسجد کی قبلہ رُخ دیوار پر ایک تاریخی تحریر بھی دریافت ہوئی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اور نبیٔ کریم حضرت محمد ﷺ کا ذکر موجود ہے۔ کتبے میں نیک لوگوں کے لیے دعائیں بھی درج ہیں جبکہ نبیٔ کریم ﷺ پر درود و سلام اور برکت کی دعائیں بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدیوں گزرنے کے باوجود اس تحریر کا محفوظ رہنا اس دریافت کی تاریخی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
مسجد کے گرد رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں کے شواہد
کھدائی کے دوران مسجد کے اردگرد پتھروں سے تعمیر کیے گئے متعدد کمرے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ عمارتیں سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوں۔ یہاں گودام، حوض، تعمیراتی ستون اور دیگر ساختی عناصر بھی ملے ہیں جو اس زمانے میں یہاں آباد لوگوں کے طرزِ زندگی اور تعمیراتی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔
آثارِ قدیمہ کی ٹیم کو روزمرہ زندگی سے متعلق متعدد اشیا بھی ملی ہیں۔ ان میں صابونی پتھر سے بنے برتنوں کے ٹکڑے، مٹی کے مختلف برتن، باریک تراشے ہوئے پتھریلے اوزار، چکیاں اور دستے شامل ہیں۔ یہ اشیا المعملہ میں رہنے والے لوگوں کی معاشرتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتی ہیں۔
قدیم کان کنی کا اہم مرکز
المعملہ کی تاریخی اہمیت صرف قدیم مسجد تک محدود نہیں۔ یہ مقام قدیم زمانے میں سونے، چاندی اور تانبے سمیت مختلف معدنیات کی کان کنی کے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معدنی خام مال نکالنے کے ساتھ ساتھ اسے مقامی سطح پر پروسیس کیا جاتا اور دھاتیں تیار کرنے کا عمل بھی جاری رہتا تھا۔
معدنی وسائل نے اسلامی ادوار میں المعملہ کو ایک اہم اقتصادی مرکز بنا دیا تھا۔ یہاں کان کنوں، دھات پگھلانے والے کاریگروں، تاجروں اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کی آمدورفت رہی ہوگی۔ یوں یہ مقام محض کان کنی کے مرکز تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ ایک فعال معاشی بستی کی شکل اختیار کرتا گیا۔
اسلام سے پہلے بھی کان کنی کے شواہد
گزشتہ کھدائی سے حاصل کیے گئے نامیاتی نمونوں کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ المعملہ میں اسلام سے قبل بھی کان کنی کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ لیبارٹری تحقیقات کے مطابق اس علاقے میں کان کنی کا عمل چھٹی صدی عیسوی کے اواخر سے نویں صدی عیسوی تک اپنے عروج پر رہا۔
ماہرین کی سابقہ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ کان کنی کے فروغ نے مختلف نوعیت کی معدنی بستیوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا سطحی کانوں سے ہوئی، جس کے بعد عارضی آبادیاں اور علاقائی دھات پگھلانے کے مراکز قائم ہوئے اور بالآخر یہ سرگرمیاں ابتدائی اقتصادی شہروں کے قیام تک پہنچیں۔
ماہرین کے مطابق المعملہ کی حالیہ دریافتیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ معدنی وسائل نے نہ صرف علاقے کی معیشت کو متاثر کیا بلکہ انسانی آبادی، مذہبی سرگرمیوں اور سماجی زندگی کے ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ قدیم مسجد اور اس سے ملحقہ عمارتوں سمیت یہ آثار سعودی عرب میں ابتدائی اسلامی دور کی مذہبی، معاشرتی اور اقتصادی تاریخ کے مطالعے کے لیے ایک اہم Archaeological Site کے طور پر سامنے آئے ہیں۔