فوٹوالامی
یورپی ملک لاتویا میں مردوں کی کمی ہے۔ صنفی عدم توازن مختلف امور پر اثرانداز ہور ہورہا ہے ۔ حتیٰ کہ خواتین کی بڑی تعداد اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں مدد کے لیے کرائے پر مرد فراہم کرنے والی خدمات کے حصول پر مجبور ہیں۔
نابرابری کسی شعبے اور کسی سطح پر ٹھیک نہیں ہوتی منفی اثرات دیر یا سویر ظاہر ہوتے ہیں جس سے پورا
معاشرتی،تہذیبی اور ثقافتی تانا بانا متاثر ہوتا ہے۔
اب یورپی ملک لاتویا کو ہی دیکھیں ۔ یہاں مردوں کی کمی ہے۔
صنفی عدم توازن مختلف امور پر اثرانداز ہور ہورہا ہے ۔ حتیٰ کہ خواتین کی بڑی تعداد اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں مدد کے لیے کرائے پر مرد فراہم کرنے والی خدمات کے حصول پر مجبور ہیں۔ مردوں کی کمی کے باعث یہ رجحان ملک میں عام ہوتا جا رہا ہے۔
میڈیا پورٹس کے مطابق ،لاتویا میں مردوں اور خواتین کے درمیان آبادی کا فرق یورپی یونین کے لحاظ سے اوسط سے تین گنا زائد ہے۔ یورو اسٹیٹ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ ہے۔ ورلڈ اٹلس کے مطابق ملک میں 65 برس سے زائد عمر کے افراد میں خواتین کی تعداد مردوں سے تقریباً دگنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کمی روزمرہ زندگی اور کام کی جگہوں پر واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ فیسٹیولز میں کام کرنے والی دانیا کے مطابق ان کے ساتھ کام کرنے والوں میں سبھی خواتین ہیں حالانکہ یہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن بہتر صنفی توازن سماجی میل جول کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے۔
ان کی دوست زانے نے کہا کہ، مردوں کی کمی کی وجہ سے خواتین شریکِ حیات کی تلاش میں بیرونِ ملک جاتی ہیں۔
مردوں کی کمی کے باعث گھریلو امور میں مدد کے لیے لاتویا کی خواتین مختلف خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے ’کرائے کے شوہر‘ کے خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ ملک میں مختلف پلیٹ فارمز پلمبنگ، کارپینٹر، مرمت اور ٹی وی انسٹالیشن جیسے عام کاموں کے لیے مرد فراہم کرتے ہیں۔
ایک اور سروس خواتین کو پینٹ، پردے لگانے اور دیگر مرمتی کاموں کے لیے آن لائن یا فون کے ذریعے ایک گھنٹے کے لیے شوہر‘ بُک کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
ماہرین لاتویا میں صنفی عدم توازن کی وجہ مردوں کی کم متوقع عمر بتاتے ہیں۔ اس راست تعلق زیادہ تمباکونوشی اور طرزِ زندگی سے وابستہ صحت کے مسائل سے جوڑا جاتا ہے۔
ورلڈ اٹلس کے مطابق ملک میں 31 فیصد مرد سگریٹ پیتے ہیں جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 10 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ مردوں میں زیادہ وزن اور موٹاپے کی شرح بھی بلند ہے۔




