ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی (فوٹو اے این آئی)
سوشل میڈیا پر معروف ٹیلی ویژن نیوز اینکر کی ایک ویڈیو رپورٹ گردش کر رہی ہے، جس میں مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی کی ایک بائٹ بھی شامل دکھائی گئی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اویسی نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے دہشت گردانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث باپ بیٹے کا تعلق بھارت کی ریاست اتر پردیش سے جوڑا ہے۔
سوشل میڈیا پرفرسٹ پوسٹ کی معروف خاتون اینکر پالکی شرما اپادھیا کی ایک ویڈیو رپورٹ گردش کر رہی ہے، جس میں مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی کی ایک بائٹ بھی شامل دکھائی گئی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایم آئی ایم رہنما اویسی نے سڈنی دہشت گردانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث باپ بیٹے کا تعلق بھارت کی ریاست اتر پردیش سے جوڑا ہے۔
الجزیرہ کی 16 دسمبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، 14 دسمبر کوسڈنی میں یہودیوں کی ایک تقریب کے دوران باپ بیٹے نے مبینہ دہشت گردانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 15 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔اُن میں چھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
وائرل ویڈیو کے ساتھ ایک فیس بک یوزر نے دعویٰ کیا کہ’’سڈنی حملے میں تہلکہ خیز انکشاف، اسدالدین اویسی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ پالکی شرما کے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ نوید اکرم اور ساجد اکرم کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں اور وہ اتر پردیش کے رہائشی تھے۔ ساجدکو ذہنی مریض اور مسائل کا شکار شخص بتایا گیا۔ یہ حقائق بھارتی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیں گے۔‘‘
تصدیق کاعمل
اردوویژن نے وائرل ویڈیو کی جانچ کے لیے سب سے پہلے اس کے مختلف اسکرین شاٹس کو کئی فریمز میں تقسیم کیا۔ اس کے بعد، انھیں گوگل لینس اور ین ڈیکس جیسے ٹولز کے ذریعے سرچ کیا گیا۔
تحقیق کے عمل میں فرسٹ پوسٹ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر 26 نومبر 2025 کو اپلوڈ کی گئی ایک ویڈیو رپورٹ سامنے آئی، جس میں اینکر پالکی شرما اپادھیا بالکل اسی لباس میں نظر آتی ہیں جیسا کہ وائرل ویڈیودکھایا گیا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=S3nBKVoq0J8
اس ویڈیو کی مجموعی مدت 1 گھنٹہ 6 منٹ اور 12 سیکنڈ ہے، تاہم اس میں کہیں بھی ’سڈنی حملے‘ یا ’اسدالدین اویسی‘ سے متعلق کوئی بات موجود نہیں۔ اس رپورٹ میں وہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ اور ’چینی صدر شی جن پنگ‘ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت پر تجزیہ پیش کرتی نظر آتی ہیں۔
مزید تحقیق میں 11 اکتوبر 2025 کو نیوز ایجنسی اے این آئی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اسدالدین اویسی کا 32 منٹ اور 5 سیکنڈ پر مشتمل ایک انٹرویو بھی ملا۔
https://www.youtube.com/watch?v=tZE1LpXazqc
اس انٹرویو کو مکمل طور پر سنا گیا، تاہم اس میں بھی اویسی نے ’آسٹریلیا‘، ’سڈنی حملے‘ یا کسی ’مبینہ حملہ آور‘ کے بھارتی پس منظر سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ انٹرویو میں وہ بی جے پی کی ’بی ٹیم‘، ’ہند۔افغان تعلقات‘، ’بلڈوزر کارروائیاں‘ ، بریلی کا ’آئی لو محمد‘ تنازع اور ’ووٹ چوری‘ جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
وائرل اور اصل ویڈیوز کا تقابلی تجزیہ کرنے پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ وائرل کلپ میں آواز غیر فطری، یکساں اور روبوٹ جیسی محسوس ہوتی ہے، جس سے اس کے مصنوعی طور پر تیار کیے جانے کا شبہ مزید قوی ہوتا ہے۔
اس کے بعد اردوویژن نے آواز کی تصدیق کے لیے اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کا سہارا لیا۔ ہیو یا ڈیپ فیک وائس ڈیٹیکٹر ٹول نے پالکی شرما کی آواز کو ڈیپ فیک قرار دیا جبکہ ریزمبل اے آئی ٹولز نے بھی ویڈیو میں استعمال ہونے والی آواز کو جعلی اور مصنوعی بتایا۔
نتیجہ
اردو ویژن کی تفصیلی تحقیقات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فرسٹ پوسٹ کی اینکر پالکی شرما اور اسدالدین اویسی سے منسوب سڈنی حملے کے مبینہ حملہ آوروں کو اترپردیش سے جوڑنے والی ویڈیو مکمل طور پر اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ’جعلی ویڈیو‘ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔




