فوٹو رائٹرز
عالمی فوجداری عدالت کے مزید دو ججوں پر امریکا کی پابندی اس کی ہٹ دھرمی اوراسرائیل نوازی کا ایک اور ثبوت ہے۔ غزہ جنگ بندی کی امریکا کی کوششیں قابل ستائش تو ہیں لیکن غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے تعلق سے اس کا تازہ رویہ جانبدارانہ ، انسانیت اور انصاف مخالف ہے ۔
حق اور انصاف کی باتیں کرنا تو خوب ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔ رنگ،نسل،مذہب اور عصبیت کے مارے طاقت ور ملک کے لیے تو یہ اور بھی مشکل ہے کیونکہ طاقت کے نشے میں وہ اپنے سوا کسی کو کچھ تسلیم نہیں کرتا۔ عالمی فوجداری عدالت کے مزید دو ججوں پر امریکا کی پابندی اس کی ہٹ دھرمی اوراسرائیل نوازی کا ایک اور ثبوت ہے۔ غزہ جنگ بندی کی امریکا کی کوششیں قابل ستائش تو ہیں لیکن غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے تعلق سے اس کا تازہ رویہ جانبدارانہ ، انسانیت اور انصاف مخالف ہے ۔
امریکا نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات پر کام کرنے والے عالمی فوجداری عدالت کے مزید 2 ججوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق،جمعرات کو امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) کے 2 ججوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ جارجیا سے تعلق رکھنے والے جج گوچا لورڈ کیپانیدزے اور منگولیا کے جج اردینی بالسورن دمدین پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
مارکو روبیوکے مطابق دونوں جج اسرائیل کی رضا مندی کے بغیر اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات، گرفتاری، حراست یا عدالتی کارروائی کی کوششوں میں براہِ راست شامل رہے، جن میں 15 دسمبر کو اسرائیل کی اپیل مسترد کرنے کے حق میں ووٹ دینا بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ، رواں ہفتے ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
جمعرات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نئی امریکی پابندیوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ایک غیر جانبدار عدالتی ادارے کی خود مختاری پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عدالتی اہلکاروں کو قانون پر عمل کرنے کے باعث دھمکانا عالمی قانونی نظام کے لیے خطرہ ہے۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل دونوں عالمی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتے اور ماضی میں بھی اس عدالت کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا ، آئی سی سی کی جانب سے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کو برداشت نہیں کرے گا جو امریکا اور اسرائیل کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ان کا کہناہے کہ امریکی اور اسرائیلی شہریوں کو غلط طور پر عالمی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار میں لایا جا رہاہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آئی سی سی کی قانونی کارروائیوں اور مبینہ اختیارات سے تجاوز پر امریکا سخت اور ٹھوس اقدامات جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ، ٹرمپ حکومت اس سے قبل بھی عالمی فوجداری عدالت کے متعدد ججوں، چیف پراسیکیوٹر اور ان اداروں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، جن پر ان تحقیقات کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔




