فوٹو رائٹرز
بنگلہ دیش میں طلبہ رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد احتجاجی سڑکوں پر اتر آئے ہیں ۔ ڈھاکا میں کئی سیاسی اور روزناموں کے دفاترپھونک دیئے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ہادی کی موت پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں انتخابات کے اعلان کے بعد سے قتل اور تشدد کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔ طلبہ تحریک کے رہنماشریف عثمان ہادی کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے احتجاج پھوٹ پڑا۔ ملک بھر میں احتجاجی بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے اور انھوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
ملک کے 13ویں پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق،حملے کے بعد شریف عثمان ہادی کو پہلے ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ تین دن بعد انھیں سنگاپور منتقل کر دیا گیا تاہم ان کی صحت بہتر نہیں ہو سکی۔
32 سالہ عثمان ہادی جولائی 2024 میں بنگلہ دیش کی عوامی بغاوت کے دوران ایک نمایاں کردار کے طور پر ابھرے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ہادی ’ انقلاب مانچا‘ کا حصہ تھے۔اُن کا شماربھارت کے سخت ناقدین میں کیا جاتا ہے۔ عثمان ہادی نے سوشل میڈیا پریہ اعلان بھی کر رکھا تھا کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔انھیں یہ دھمکیاں عوامی لیگ حامیوں کی جانب سے دی جارہی ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق عثمان ہادی کا تعلق ضلع جھالوکٹھی کے نالچِٹی اپازِلا سے تھا۔ انقلاب منچہ نے عوامی لیگ کے سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرنے اورطلبہ تحریک میں شامل کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کی مہم چلائی تھی۔
دسمبر 2024 میں عثمان ہادی نے الزام عائد کیا تھا کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے خلاف گزشتہ برس طلبہ تحریک میں شامل کارکنوں کے قتل میں عوامی لیگ ملوث ہے۔
ڈھاکا پولیس کے ترجمان کے مطابق، عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو دو بج کر پچیس منٹ پر بیجوی نگر کے باکس کلورٹ روڈ پر گولی ماری گئی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار تین حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
ہادی کی موت کے اعلان کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ مجرموں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے 20 دسمبر کو یومِ سوگ کا اعلان کیا اور ہدایت دی کہ قومی پرچم سرکاری، نیم سرکاری اور خودمختار اداروں، تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی عمارتوں اور بیرونِ ملک بنگلہ دیشی مشنز پر سرنگوں رکھا جائے۔
عثمان ہادی پر حملے کی تفتیش جاری ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کئی افراد کو حراست لیا جا چکا ہے۔




