(ایران میں مظاہرے فوٹو این سی آر آئی)
ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے میں امریکہ موقع تلاش رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی مداخلت کی دھمکی اس بات کا واضح اشارہ ہے جو کام جون میں ادھورا رہ گیا تھا امریکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی تاک میں ہے۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے میں امریکہ موقع تلاش رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی مداخلت کی دھمکی اس بات کا واضح اشارہ ہے جو کام جون میں ادھورا رہ گیا تھا امریکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی تاک میں ہے۔
ایران کی خستہ حال معیشت ، عالمی پابندیاں اور ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی گرتی قدر سے پیدا ہوئی ناراضگی کا دائرہ وسیع ہورہا ہے ۔ جمعرات کو مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے بیچ جھڑپوں میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
اب امریکی صدر ٹرمپ نے پُرامن مظاہرے کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کرنے پر مداخلت کی دھمکی دے دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر یہ بیان جاری کیا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ، ہم پوری طرح تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر عوام کی مدد کی جاسکتی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی نےسخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں کہا کہ ٹرمپ کے بیان کوامریکہ کی جانب سے ایران کے داخلی معاملے میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا۔
علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا کہ صدرٹرمپ کے بیان سے ان مظاہروں کے پیچھے کون ہے یہ کہانی اب واضح ہوگئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی کے مترادف ہو گی۔
لاریجانی نے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ نے ایک مہم جوئی شروع کی ہے، اپنے فوجیوں کا خیال رکھیں۔
واضح رہے کہ ، ایران میں اتوار کے روز مظاہرہ شروع ہوا تھا۔مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے بیچ اس دوران ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔




