(فوٹوانسٹا گرام گریب)
نیوریاک کے میئرظہران ممدانی نے سماجی جہد کار عمرخالد کو خط لکھا ہے۔ انھوں نے عمرخالد سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
نیوریاک کے میئرظہران ممدانی نے سماجی جہد کار عمرخالد کو خط لکھا ہے۔ انھوں نے عمرخالد سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ہاتھ سے تحریراس خط میں ممدانی نے لکھا ہے کہ میں مجھے آپ کی بات یاد ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ کڑواہٹ کو خود ہر حاوی نہ ہونے دیں نیز یہ کہ حالات کو وسیع تناظر سے دیکھنا چاہیے ۔ انھوں نے مزید لکھا کہ آپ کے والدین سے مل کر خوشی ہوئی۔ ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔
خیال رہے کہ یہ خط یکم جنوری کو اس وقت منظر پر آیا جب ظہران ممدانی نے نیویارک کے میئر کے عہدے کا حلف انھایا۔ انھوں نے قرآن کے نسخے پرہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا۔
عمر خالد کی پارٹنر بنوجیوتسنا لاہڑی نے بتایا کہ، عمرخالد کے والدین صاحبہ خانم اور قاسم رسول الیاس نے دسمبر میں امریکہ دورے کے دوران ظہران ممدانی سے ملاقات کی تھی ۔ان سے ملاقات کے دوران ہی ظہران ممدانی نے عمرخالد کے لیے یہ خط لکھ کر ان کے والدین کے سپرد کیا تھا ۔
خیال رہے کہ عمرخالد کی بہن کی دسمبر میں شادی ہوئی تھی۔ شادی سے قبل ہی، ان کے والدین نے امریکہ کا دورہ کیا تھا کیونکہ عمر کی بہن امریکہ میں مقیم ہیں اور وہ بہن کی شادی میں شریک نہیں ہوسکی تھیں۔
اس بیچ، امریکی کانگریس رکن جیمز پی میک گورن سمیت دیگر ارکان نے بھی دہلی فسادات کیس میں گرفتار عرخالد و دیگر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جیمز پی میک گورن نے امریکہ میں بھارت کے سفیر ونئے کواترا کو خط لکھ کر 2020دہلی فسادات معاملے میں گرفتار کیے گئےافراد کو ٹرائل کے بغیر جیل میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس خط پر قانون سازوں کرس وان ہولن، پیٹر ویلچ، پرامیلا جے پال، جان شاکوسکی، راشدہ طالب اور لائیڈ ڈوگیٹ کے دستخط بھی ہیں۔
ان کانگریس ارکان نے دریافت کیا ہے کہ یواے پی اے کے تحت عمر خالد کو بغیر کسی مقدمے کے پانچ سال سے زیادہ حراست میں رکھنا بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق کیسے ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ان کی گرفتاری کے پانچ سال بعد بھی مقدمہ کیوں شروع نہیں سکا؟
جیمزمیک گورن نے یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق کی معروف تنظیموں کی آزادانہ تحقیقات میں عمر خالد کو کسی دہشت گردانہ سرگرمی سے جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت ہندوستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزمین کو مناسب وقت کے اندر ٹرائل کرنے یا انہیں رہا کرنے کا حق دے، اور مجرم ثابت ہونے تک انہیں بے گناہ تصور کرے۔
عمر خالد 2020 سے جیل میں ہیں۔ انھیں دہلی میں فروری 2020 کے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کا الزام ہے کہ انھوں نے فسادات کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا تھا، عمر خالد اور ان کے حامیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ان کے خلاف مقدمہ اس وقت زیر سماعت ہے، اور وہ کئی برسوں سے عدالتی حراست میں ہیں۔




