تازگی، توانائی اور ذہنی سکون کے لیے لوگ چائے یا کافی پیتے ہیں، تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر انھیں حد سے زیادہ گرم حالت میں پیا جائے تو یہ عادت صحت کےلیے سنگین خطرات پیدا کرسکتی ہے۔ بالخصوص غذائی نالی کے کینسر کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
چائے دنیا کی پسندیدہ مشروبات میں سر فہرست ہے۔ بیشتر گھروں میں دن کی شروعات چائے کے گرم پیالے سے ہوتی ہے۔ لوگ گرم گرم چائے یا کافی پینا پسند کرتے ہیں ۔
تازگی، توانائی اور ذہنی سکون کے لیے لوگ چائے یا کافی پیتے ہیں، تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اگر انھیں حد سے زیادہ گرم حالت میں پیا جائے تو یہ عادت صحت کےلیے سنگین خطرات پیدا کرسکتی ہے۔ بالخصوص غذائی نالی کے کینسر کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق غذائی نالی معدے کے مقابلے میں حساس ہوتی ہے، جو مسلسل شدید گرمی برداشت کرنے کے لیے قدرتی طور پر محفوظ نہیں ۔ لہذا زیادہ گرم مشروبات بار بار پینے سے گلے کی اندرونی سطح کو حدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شروع شروع میں یہ حدت محسوس نہیں ہوتی لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اندرونی بافتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ برطانیہ کے بائیو بینک میں کیے گئے ایک تفصیلی اور ریویو شدہ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد جو طویل عرصے تک بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پیتے رہتے ہیں، ان میں غذائی نالی کے سرطان کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق مسئلہ کسی خاص کیمیکل یا اجزاء کا نہیں بلکہ محض زیادہ درجۂ حرارت کا ہے۔
اسٹڈی میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں لوگ انتہائی گرم مشروبات کا استعال کرتے ہیں وہاں غذائی نالی کے کینسر کی شرح نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی تحقیق نے بھی اسی رجحان کی تصدیق کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خطرہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔
محققین کے مطابق غذائی نالی معدے کی طرح مضبوط حفاظتی تہہ نہیں رکھتی۔ جب بہت گرم مشروب بار بار پیا جاتا ہے تو اندرونی سطح جلتی ہے، پھر ٹھیک ہوتی ہے اور دوبارہ جلن کا شکار ہو جاتی ہے۔ طویل عرصے تک یہ عمل جاری رہنے سے خلیوں کے رویے میں تبدیلی آسکتی ہے، جو کینسر کے امکانات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روزانہ آٹھ یا اس سے زیادہ انتہائی گرم مشروبات پینے والوں میں خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، تاہم اگر مقدار کم بھی ہو مگر مشروب بہت زیادہ گرم ہو تو تب بھی نقصان کا اندیشہ برقرار رہتا ہے۔
ماہرین صحت کی صلاح یہ ہے کہ چائے یا کافی پینے سے پہلے اسے کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیا جائے، کپ کو چمچ سے ہلایا جائے یا ڈھکن کھول کر بھاپ خارج ہونے دی جائے۔ ۔ محققین کے مطابق تقریباً 58 ڈگری سینٹی گریڈ پر مشروب پینا نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ چھوٹی عادات معمولی لگتی ہیں مگر غذائی نالی کے نازک ٹشوز کے لیے نہایت اہم ہیں اور طویل مدت میں صحت کو سنگین بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔




