بنگلہ دیش میں انتخابات ، جمہوریت کا امتحان ، نتائج کے دوررس اثرات ہوں گے مرتب

Published On: 12 February, 2026 12:15 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
بنگلہ دیش میں انتخابات ، جمہوریت کا امتحان ، نتائج کے دوررس اثرات ہوں گے مرتب

(فوٹواے پی)

بنگلہ دیش میں آج (جمعرات) انتخابات ہورہے ہیں ۔ عوامی مظاہروں کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی(اگست 2024) کے بعد یہ پہلا چناؤ ہے ۔ انتخابات کو جمہوری اقدار کی بحالی کی سمت اہم مانا جارہا ہے۔

بنگلہ دیش کے لیے آج (جمعرات) بڑا دن ہے۔ آج انتخابات ہورہے ہیں ۔ عوامی مظاہروں کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی معزولی(اگست 2024) کے بعد یہ پہلا چناؤ ہے ۔ انتخابات کو جمہوری اقدار کی بحالی کی سمت اہم مانا جارہا ہے۔

ان انتخابات میں تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹر حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں  ۔ اُن میں 50 لاکھ ووٹر پہلی بار حق ائے دہی کا استعمال کررہے ہیں ۔ 350 سو رکنی پارلیمانی نشستوں کے لیے 1981 اُمیدوار میدان میں ہیں۔ 50 سیٹیں خواتین کے لیے ریزرو ہیں ۔ان انتخابات میں پہلی باربیرون ممالک مقیم بنگلہ دیشی بھی پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لے سکیں گے۔ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے سکیورٹی کے معقول بندوبست کیے گئے ہیں ۔

بی این پی اور جماعت اسلامی کے بیچ مقابلہ 
عوامی لیگ پر پابندی کے بعد،انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(BNP) اور جماعت اسلامی کے بیچ سیدھا مقابلہ ہے۔ طارق رحمان کی قیادت میں بی این کی کی پوزیشن مضبوط نظر آرہی ہے۔17برس جلا وطنی میں گزارنے کے بعد طارق رحمان دسمبر میں بنگلہ دیش لوٹے۔ انھوں نے ووٹروں سے بدعنوانی سے لڑنے، جمہوری اداروں کی بحالی،معیشت کے احیاء اور قانونی کی بالادستی کا وعدہ کیا ہے ۔
بی این پی کا مقابلہ جماعت اسلامی سے  ہے۔ جماعت اسلامی 11پارٹیوں کے اتحاد کی قیادت کررہی ہے۔ اتحاد میں نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے جس نے 2024میں شیخ حسینہ ک خلاف ملک گیر مظاہرے کیے تھے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا ۔ شیخ حسینہ کے دورحکومت میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد تھی لیکن ان کی معزولی کے بعد جماعت اسلامی پر سے پابندی ہٹالی گئی ہے ۔ پارٹی قومی سیاست میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی بھر پور کوشش کررہی ہے۔ 

بدعنوانی،مہنگائی،خستہ حال معیشت اہم مسئلہ
رائے دہندگان کو درپیش اہم مسائل میں سرفہرست بدعنوانی ہے۔ بنگلہ دیش طویل عرصے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں دنیا کے بدترین ممالک میں شامل رہا ہے۔ بی این پی اور اس کی حریف جماعتِ اسلامی دونوں نے بدعنوانی سے ترجیحی بنیادپرنمٹنے کا وعدہ کیا ہے۔
مہنگائی بھی ووٹروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں افراطِ زر بڑھ کر 8.58 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔
کبھی ایشیا کی تیز ترین معیشتوں میں شمار ہونے والا بنگلہ دیش کووڈ  کے بعد اپنی رفتار بحال کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔ خصوصاً،  برآمدات پر مبنی ملبوسات کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔ سیاسی اتھل پتھل کے اثرات معیشت کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں پر بھی نمایاں ہیں۔ آئندہ حکومت پر بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنےکا زبردست دباؤ ہوگا۔