(فوٹواے پی)
بنگلہ دیش کے عوام نے دو اتحاد اور دو رحمان (طارق رحمان اور شفیق الرحمان) کے درمیان کس کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ہے ۔ یہ تصویر جلد واضح ہوجائے گی ۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔299پارلیمانی حلقوں میں تقریبًا47.91فیصد ووٹنگ ہوئی۔ یہ شرح گذشتہ انتخابات کے 42 فیصد ٹرن آؤٹ سے زیادہ ہے۔
پولنگ مجموعی طور پر پُرامن رہی ۔ ووٹروں نے انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹروں نے 1981 اُمیدواروں کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ سادہ اکثریت کے لیے151سیٹیں درکار ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق زیادہ تر پولنگ مراکز پر ووٹوں کی گنتی ووٹنگ ختم ہونے (مقامی وقت شام 4:30 ) کے فوری بعد شروع ہو گئی۔ابتدائی نتائج رات 12 بجے کے قریب متوقع ہیں جبکہ مکمل نتائج جمعے کی صبح تک واضح ہونے کی امید ہے۔
جیت کے دعوے
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی دونوں ہی جیت کے دعوے کررہی ہیں ۔ بی این پی ترجمان مہدی امین کو بھروسہ ہے کہ پارٹی کی لہر ہے اور انتخابات میں اسے کامیابی حاصل ہوگی۔ ادھر،جماعت اسلامی کے لیڈر شفیق الرحمان کو بھی بہترنتائج کی اُمید ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عوام کا فیصلہ انھیں قبول ہوگا۔ انھوں نےکہا کہ عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ترقی کے لیے سیاسی استحکام لازمی
تجزیہ کاروں کے مطابق نتائج ملک کے سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہیں کیونکہ شیخ حسینہ مخالف احتجاج کے بعد کئی ماہ تک اتھل پتھل کی صورتحال رہی جس سے ملک کی اہم صنعتوں، خصوصاً ملبوسات کی برآمدی صنعت، کو متاثر ہوئی۔
انتخابات اور اصلاحات
عوامی لیگ کی شیخ حسینہ حکومت کے خلاف(2024) کامیاب بغاوت کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے ۔ انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ریفرنڈم بھی ہوا، جس میں آئینی اصلاحات پر ووٹ ڈالا گیا۔ اس کے تحت انتخابی عمل کے لیے غیر جانبدار عبوری حکومت کا قیام، پارلیمان کی دو ایوانوں میں تقسیم ، خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کرنا، عدلیہ کو مزید خودمختار بنانا اور وزیراعظم کی مدت کار دو میعاد تک محدود کرنا شامل ہے۔




