(فوٹواے پی)
امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ اس کے تحت ان جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جوایرانی تیل فروخت کر کے اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔
امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ اس کے تحت ان جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جوایرانی تیل فروخت کر کے اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔
پابندیوں کے تحت 12 جہازوں، کئی کمپنیوں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے ۔ مزید امریکی شہریوں کے لیے ان کے ساتھ مالی لین دین ممنوع ہو جائے گا۔
ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی
تازہ پابندیاں ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت عائد کی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں اس وقت لگائی گئی ہیں جب خلیج میں امریکی لاؤ لشکرموجود ہے۔جن میں دو ایئرکرافٹ کیریئر اور بڑی لڑاکا ہوائی جہاز کی فلیٹس شامل ہیں تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیاری کی جا سکے۔
جنیوا مذاکرات سے قبل ٹرمپ نے دی دھمکی
جنیوا مذاکرات کا تیسرا دور آج (جمعرات) کو ہونے جارہا ہے ۔ دو دور کی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی ۔ جینوا میں تیسرے دور کی بات چیت سے قبل امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر دھمکیاں دی گئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران پھر اپنے جوہری پروگرام پر کام کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ تک نشانہ لگاسکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ایران کے میزائل،یورپ اور امریکی فوجی اڈوں کے کے لیے خطرہ ہیں۔
’ایران نہیں بنا رہا جوہری ہتھیار‘
اُدھر، ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ، ایران یورینیم کی افزودگی کے تعلق سے تشویشات اور سوالات کا جواب دینے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہیں اور ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا پُرامن استعمال ایران کا حق ہے اور وہ اسے ترک نہیں کرے گا۔ ایران کا مزید کہنا ہے کہ ایران لمبی دوری تک مار کرننے والا کوئی میزائل نہیں بنارہا ۔ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے چٹکی لی کہ ٹرمپ اکثر فرضی خبر کی شکایت کرتے ہیں لیکن وہ خود اس کا شکارہوگئے ۔




