موسمیاتی تبدیلی سے حج کے متاثرہونے کا خدشہ، نئی تحقیق

Published On: 09 May, 2026 09:56 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
موسمیاتی تبدیلی سے حج کے متاثرہونے کا خدشہ، نئی تحقیق

(فوٹورائٹرز)

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات حج پرمرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق شدید گرمی اور حبس نے حج 2024میں انسانی برداشت کی حدیں عبور کر دی تھیں، آئندہ دہائیوں میں حج کے دوران اموات اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع حج کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہی ہے جب کہ شدید گرمی اور رطوبت ( Humidity) نے 2024 کے حج کے دوران   انسانی برداشت کی حدوں کو عبور کرلیا۔

یہ تحقیقی ماہرِ موسمیات عطاء اللہ اور جرمنی کے تحقیقی ادارے  کلائمیٹ اینالائٹکس کے ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی، جسے یورپی جیو سائنسز یونین کی جنرل اسمبلی 2026 میں پیش کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق جون 2024 میں حج کے دوران شدید گرمی اور رطوبت کے امتزاج نے تقریباً چار گھنٹوں تک ایسی صورتحال پیدا کردی تھی جس میں کھلے آسمان کے تلے طویل وقت گزارنا نوجوان اور صحت مند افراد کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس دوران انسانی جسم پسینے کے ذریعے اپنے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں ناکام رہا، جس سے ہیٹ اسٹروک اور جسمانی نظام کے متاثر ہونے کا خطرہ انتہائی بڑھ گیاتھا۔

حج کے دوران ادا کیے جانے والے مناسک، جن میں خانہ کعبہ کا طواف، صفا و مروہ کے درمیان سعی، میدانِ عرفات میں وقوف، منیٰ اور مزدلفہ میں قیام اور رمی جمرات شامل ہیں، زیادہ تر کھلے میدانوں میں انجام دیے جاتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ  عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث ان عبادات کی ادائیگی مزید دشوار ہوتی جارہی ہے۔

تحقیق میں خاص طور پر وقوف عرفہ کا ذکر کیا گیا ہے اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث اسے سخت ترین مرحلہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ لاکھوں عازمین پورا دن میدانِ عرفات میں کھلے آسمان تلے گزارتے ہیں جہاں سایہ دار مقامات محدود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرمی کی شدت میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں اس عبادت کو روایتی انداز میں برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بعض حفاظتی اقدامات کیے جاچکے ہیں، جن میں سعی کے لیے اندرونی راستے، منیٰ میں مستقل شیلٹرز اور جدید ٹھنڈک کے نظام شامل ہیں۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ صرف انتظامی اور انفراسٹرکچر کی تبدیلیاں اس مسئلے کا مکمل حل نہیں بن سکتیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ آئندہ 20 سے 30 برسوں تک حج نسبتاً ٹھنڈے موسموں میں آئے گا لیکن 2050 کے بعد حج دوبارہ شدید گرم مہینوں میں داخل ہوجائے گا، جس کے نتیجے میں عازمینِ حج کو درپیش خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔

ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا بلکہ مذہبی عبادات، انسانی صحت اور بڑے عالمی اجتماعات کو بھی براہِ راست متاثر کررہا ہے۔

تحقیق کے مصنفین کے مطابق اگر عالمی حدت میں اضافہ نہ روکا گیا تو حج جیسے مقدس اور جسمانی طور پر دشوار سفر کے دوران لاکھوں افراد کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔