(فوٹواے پی)
صحت اور تندورستی کے بارے میں سوشل میڈیا پر مشوروں کی بہتات ہے لیکن ان کنٹنٹ میں دی گئی معلومات کیسی ہیں،معلومات شیئر کرنے والے مستند ہیں یا نہیں؟ اس حوالے سے پیوریسرچ سینٹر کی رپورٹ آئی ہے جو فکر انگیز ہے۔
صحت اور تندورستی کے بارے میں سوشل میڈیا پر مشوروں کی بہتات ہے۔ ظاہر سے جب مشورے وافر ہوں تو ان میں کچھ مفید تو کچھ رجحانات پر مبنی ہوتے ہیں وہیں بعض اوقات غلط معلومات بھی ہوتی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں ایک نئی تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اب صحت سے متعلق معلومات کے لیے سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس پر انحصار کر رہے ہیں۔
پیوریسرچ سینٹر(Pew Research Center) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 10میں 4 افراد جن میں 50 سال سے کم عمر افراد کی نصف تعداد ہے، صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈکاسٹس سے حاصل کرتے ہیں۔
محققین نے 6,828 ایسے ہیلتھ اور ویلنس انفلوئنسرز کے سوشل میڈیا پروفائلز کا جائزہ لیا جن کے کم از کم ایک لاکھ فالوورز تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ صرف تقریباً 40 فیصد انفلوئنسرز نے خود کو کسی طبی یا صحت کے پیشے سے وابستہ ظاہر کیا۔ ایک تہائی نے خود کو ’کوچ‘ قرار دیا جب کہ10 میں 3 نے خود کو کاروباری بتایا۔ کچھ افراد نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات، جیسے والدین ہونے، کو اپنی مہارت کی بنیاد بنایا۔
متنوع پس منظر رکھنے والے ان انفلوئنسرز کے باوجود، صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے تقریباً نصف افراد کا کہنا تھا کہ ان مواد نے انہیں اپنی صحت کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔ ایک تہائی افراد کے مطابق اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، جب کہ تقریباً 10 فیصد افراد مزید الجھن کا شکار ہوئے۔
ماہرین کے مطابق فٹنس، ذہنی صحت اور ذاتی صحت سے متعلق پوسٹس کو دیکھتے وقت محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی دعوے کو فوراً درست تسلیم کرنے کے بجائے اس کی تصدیق کرنا دانشمندی ہے۔
ہیلتھ انفلوئنسر کی قابلیت جانچ کیسے کریں؟
ماہرین کے مطابق کسی ہیلتھ انفلوئنسر کی قابلیت کی جانچ کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد واضح طور پر اس کے پروفائل پر موجود ہوں۔ ایسے افراد سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو خود کو صرف ’کوچ‘ کہہ کر پیش کریں لیکن اپنی تربیت یا مہارت کا کوئی ثبوت فراہم نہ کریں۔
کرٹنی بابلیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے خاص طور پر حمل اور زچگی سے متعلق مواد میں یہ رجحان دیکھا ہے۔ ان کے مطابق کوئی شخص بچہ پیدا کرتا ہے اور اچانک خود کو حمل سے متعلق کوچ کہنا شروع کر دیتا ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ کسی ایک ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے والوں سے محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ہر تجربہ پیشہ ورانہ مہارت کے برابر نہیں ہوتا۔
کرٹنی سندیافتہ میڈیکل ایکسرسائز اسپیشلسٹ اور پرسنل ٹرینر ہیں اور انسٹاگرام پر ان کے چار لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔
ماہرین کے مطابق کوچ ہونا ہمیشہ اس بات کی علامت نہیں کہ کسی شخص نے باقاعدہ طبی یا پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی ہو، بلکہ یہ صرف ایک کاروباری ماڈل بن چکا ہے۔ کرٹنی خود اپنی دائمی بیماری سے متعلق تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں لیکن وہ انہیں اپنی پیشہ ورانہ طبی مشاورت سے الگ رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق اگر آپ لوگوں کو مشورے دے رہے ہیں تو آپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ غلط معلومات یا ایسا پیغام نہ پھیلائیں جو ہر شخص پر لاگو نہ ہوتا ہو۔
وائرل سنسنی خیزی سے رہیں محتاط
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ویڈیو یا پوسٹ آپ میں شدید جذبات پیدا کرے تو فوراً یقین کرنے کے بجائے تھوڑا ٹھہریں ۔ ایسے افراد جو مناسب طبی سہولیات سے محروم ہوں یا اپنے ڈاکٹروں کی جانب سے نظرانداز محسوس کرتے ہوں، ان کے لیے غیر معمولی دعوے کسی ’طلسمی حل‘ کی طرح معلوم ہو سکتے ہیں۔
پیوریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق بغیر انشورنس رکھنے والے 53 فیصد افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا سے حاصل کرتے ہیں، جب کہ انشورنس رکھنے والوں میں یہ شرح 38 فیصد رہی۔
نیویارک کے اسٹونی بروک میڈیسین (Stony Brook Medicine) سے وابستہ ماہر امراضِ نسواں فاطمہ داؤد یلماز کا کہنا ہے کہ جو لوگ واقعی درست طبی معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں، وہ خوف یا سنسنی پھیلانے کی کوشش نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ماہر بھی ہو تو یہ ضرور دیکھیں کہ آیا وہ اپنے علم کے دائرے میں بات کر رہا ہے یا نہیں، اور کیا اس کی بات سائنس اتی روشنی میں ہے ۔
ان کے مطابق صحت، طب اور سائنس کے معاملات میں ہر رائے یکساں اہمیت نہیں رکھتی۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسی ویڈیوز سے محتاط رہیں جن میں ابتدا ہی میں چونکا دینے والے یا حتمی دعوے کیے جائیں کیونکہ اکثر انفلوئنسرز چند سیکنڈ میں توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذہنی صحت کی معالج اور مصنفہ ندرا گلوور تواب کے مطابق محتاط زبان ایک مثبت علامت ہوتی ہے۔ وہ اپنی ویڈیوز میں ’شاید‘، ’کبھی کبھی‘ اور ’ممکن ہے‘ جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں، بجائے اس کے کہ اپنے لاکھوں فالوورز کو براہِ راست تشخیص دینا شروع کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو لگے کہ آپ نے انٹرنیٹ پر اپنی بیماری کی تشخیص ڈھونڈ لی ہے، تو یہی وقت ہے کہ کسی مستند ماہرِ صحت سے رجوع کیا جائے۔
انفلوئنسرز کی آمدنی کو بھی رکھیں پیش نظر
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مواد تخلیق کرنے والے اکثر افراد اس سے مالی فائدہ بھی حاصل کرتے ہیں اور کئی لوگوں کے لیے یہ روزگار کا ذریعہ بن چکا ہے۔
ڈاکٹرفاطمہ داؤد یلماز کا کہنا ہے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معلومات جانبدارانہ ہو لیکن صارفین کو یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ بعض اوقات مالی مفادات بھی مواد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کرٹنی بابلیا کے مطابق ان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم اب ان کی کل وقتی ملازمت اور خاندان کی کفالت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برانڈ اشتہارات اور شراکت داری قبول کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اس سے ان کا کام جاری رکھنا ممکن ہوا۔
انہوں نے زور دیا کہ وہ اپنے ناظرین کے ساتھ شفافیت برقرار رکھنے اور اشتہارات کو واضح طور پر ظاہر کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
صرف اسکرول کرنے کے بجائے کریں تحقیق
ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی ویڈیو یا پوسٹ کے ذرائع کی جانچ ضرور کریں۔ معتبر سائنسی تحقیق کو ترجیح دیں، کیونکہ بعض انفلوئنسرز ایسی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہیں جن کا ان کے دعوؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ندرا گلوور تواب کے مطابق صحت سے متعلق معلومات کو بھی اسی طرح پرکھنا چاہیے جیسے آن لائن خریداری سے پہلے مصنوعات کے ریویوز پڑھے جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تقریباً دو تہائی صارفین جان بوجھ کر ایسی معلومات تلاش نہیں کرتے بلکہ انہیں یہ مواد اتفاقاً نظر آتا ہے۔
University of Minnesota سے وابستہ محقق ایش ملٹن کے مطابق اگر آپ اپنی سوشل میڈیا فیڈ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے مسلسل کوشش کرنا پڑتی ہے کیونکہ الگورتھمز صارفین کو غیر فعال انداز میں مواد دکھانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انسٹاگرام میں ’Hidden Words‘ اور ٹک ٹاک میں ’Not Interested‘ جیسے فیچرز استعمال کرکے غیر ضروری مواد کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
بھروسے مند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری
ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن دیکھی گئی کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے کسی قابلِ اعتماد ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے تصدیق ضرور کریں۔
ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلمازکے مطابق انفلوئنسرز کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن طبی ماہرین اخلاقی اور قانونی طور پر اپنے مشوروں کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور غلط رہنمائی کی صورت میں انہیں پیشہ ورانہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخرکار اسی طبی ماہر سے مشورہ کریں جو آپ کو اور آپ کی طبی تاریخ کو اچھی طرح جانتا ہو۔




