(تصویراے آئی)
حجاب کے تعلق سے کرناٹک حکومت کے حالیہ فیصلے کا مسکان خان نے خیرمقدم کیا ہے۔ تعلیی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف مزاحمت کی علامت مسکان خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے حق کے لیے اپنی آواز بلند کی۔
دسمبر 2021 میں کرناٹک کے اوڈپی ضلع میں حجاب پر تنازع ہوا جب سرکاری پری یونیورسٹی گرلز کالج کی 6 مسلم طالبات کو حجاب کی وجہ سے کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا گيا تھا اور یہ تنازع پوری ریاست میں دھیرے دھیرے پھیل گیا تھا۔اس دوران مسکان خان حجاب پر پابندی کی علامت بن کر سامنے آئیں۔
ان کی ایک تصویر منظر عام پر آئی، جس میں وہ کالج میں داخل ہونے سے قبل طلبہ کے ایک گروہ کی جانب سے حجاب اتارنے کے مطالبے پر ہاتھ بلند کرکے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگا رہی تھیں۔
ریاستی حکومت کے حالیہ حکم کے بعد، جس کے تحت طلبہ کو مقررہ یونیفارم کے ساتھ محدود مذہبی علامات پہننے کی اجازت دی گئی ہے، مسکان جیسی کئی مسلم طالبات، جن کی تعلیم اس تنازع کے باعث متاثر ہوئی تھی، اب سکون محسوس کر رہی ہیں۔مسکان اور کئی دیگر طالبات نے سابق بی جے پی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس پر عائد پابندیوں کے دوران بھی حجاب پہن کر تعلیم جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسکان نے اس فیصلے کو اُن حقوق کی بحالی قرار دیا جن کے لیے کئی طالبات نے جدوجہد کی۔
انہوں نے کرناٹک حکومت کا شکریہ کیا اور اسے ایک اچھا قدم بتایا۔مسکان خان نے تمام تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس دوران کے ساتھ کھڑے رہے ، کیونکہ حجاب پر پابندی کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں نے اپنے امتحانات چھوڑ دیے تھے۔
تنازع اور اثرات
مسکان نے کہا کہ اس تنازع نے ان کی تعلیم کو متاثر کیا اور انہیں اپنی تعلیمی منصوبہ بندی تبدیل کرنی پڑی۔انہوں نے مزید کہا کہ امتحانات کے دوران یہ احتجاج شروع ہوا اور ہمارے امتحانات متاثر ہوئے، پھر میں اوپن یونیورسٹی چلی گئی کیونکہ کئی کالجوں نے مجھے داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ میں نے اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لیا دیگر کورسز کیے اور انہیں مکمل کیا۔
احتجاج کے دن کے حوالے سے مسکان نے کہا کہ ابتداء میں انہیں باہر کی صورتحال کا علم نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک اسائنمنٹ جمع کرنے گئی تھیں۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ حجاب پراحتجاج چل رہا ہے۔ کالج کے گیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے میں نے دیکھا کہ بہت سے لڑکے میری طرف آ رہے ہیں اور مجھے حجاب اتارنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ وہاں سے نکل جاؤں لیکن پھر دو یا تین لڑکے میرے سامنے آ گئے اور نعرے لگانے لگے۔ اُس لمحے میں نے صرف اپنے تحفظ کے لیے اللہ اکبر کہا۔ یاد کیجیے، جیسے گاندھی جی نے مرنے سے پہلے ’ہے رام‘ کہا تھا؟ جب ان پر حملہ ہوا تو انہوں نے اپنے خدا کو پکارا، اور جب مجھے خطرہ محسوس ہوا تو میں نے اپنے خدا کو پکارا۔انہوں نے مزید کہا کہ کالج انتظامیہ نے بھی ان کی مدد کی۔۔
حکومت کے فیصلے پر ردعمل
حکومت کا نیا فیصلہ مزید لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دے گا،اس سوال پر مسکان خان نے جواب بار بار ذاتی پسند اور حقوق کے تناظر میں دیئے۔
انہوں نے کہاکہ حجاب میرا حق ہے۔ حجاب میری پسند ہے۔ میں یہ بات نہیں کروں گی کہ میرے مذہب میں حجاب کتنا اہم ہے۔ میں اپنے حق کی بات کروں گی۔ میں اپنی پسند کی بات کروں گی۔کوئی مجھے روک نہیں سکتا کیونکہ ہر لڑکی کا اپنا حق ہے۔ ہر لڑکی کو یہ فیصلہ خود کرنا چاہیے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے۔
یونیفارم کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے مسکان نے کہا کہ حجاب تعلیمی اداروں کے لباس کے ضابطے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
انہوں نے کہاکہ حجاب صرف ایک دوپٹہ ہے۔ یہ نقاب ہے، یہ برقع ہے۔ ہم حجاب کے لیے لڑ رہے ہیں۔ سرکاری حکم میں بھی کہا گیا ہے کہ یونیفارم متاثر نہیں ہوگی۔ ہم ہمیشہ کی طرح یونیفارم پہنیں گے اور اس کے اوپر صرف حجاب اوڑھیں گے۔
انہوں نے اُن طالبات کے لیے بھی پیغام دیا جنہوں نے احتجاج کے دوران تعلیم چھوڑ دی تھی۔اب سرکاری حکم نامہ جاری ہو چکا ہے اور ہمیں ہمارے حقوق واپس مل گئے ہیں۔ ہر وہ لڑکی جو حجاب پہن کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے، آگے آئے اور اپنی پڑھائی جاری رکھے ۔
مسکان خان نے کہاکہ میں اُن تمام لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے حجاب پر پابندی کی وجہ سے امتحانات چھوڑ دیے تھے، براہِ کرم آگے آئیں اور اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ خاص طور پر اُوڈپی کی وہ نوجوان لڑکیاں، جو طویل عرصے تک تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں۔مسکان مستقبل میں وکیل بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔




