(فوٹورائٹرز)
جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے کے بعد لبنان میں اسرائیل نے حملے کیے جس کے نتیجے میں کم سے 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں امریکہ۔ایران مذاکرات کا مستقبل غیر واضح نظر آرہا ہے۔
جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے کے بعد لبنان میں اسرائیل نے حملے کیے جس کے نتیجے میں کم سے 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہفتے کے روز ہونے والے مہلک ترین اسرائیلی حملوں میں سے ایک صور (Tyre) ضلع میں ایک تین منزلہ رہائشی عمارت پر کیا گیا، جس میں ایک باپ، ماں اور ان کے دو بچے ہلاک ہو گئے، یہ بات ایک مقامی عہدیدار نے بتائی۔لبنانی فوج نے کہا کہ ایک اسرائیلی حملے میں کفررمان۔نبطیہ سڑک پر ایک فوجی بھی ہلاک ہوا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کا جواب دے رہا ہے جب کہ حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان میں نقل و حرکت کی آزادی کی اجازت نہیں دے گی۔
لبنان میں لڑائی کا خاتمہ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک شرط ہے، جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر پیچیدہ مسائل پر اختلافات حل کرنا ہے۔ یہ مسائل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کو مستحکم کرنے کے لیے ایک زیادہ پائیدار معاہدے کی تشکیل میں اہم تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات کب شروع ہو سکیں گے۔
بدھ کے روز طے پانے والے امریکہ۔ایران معاہدے کے تحت دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں کو تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی، جن میں لبنان بھی شامل ہےلیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور وہ لبنان کے تقریباً 5 فیصد علاقے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا، جو اس وقت اس کے قبضے میں ہے۔
اسرائیل کا موقف
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جو حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ حزب اللہ نے رات بھر جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی افواج پر 50 سے زائد راکٹ اور گولے داغے، جس کے جواب میں اسرائیل نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں اس نے حزب اللہ کے اہداف قرار دیا۔
حزب اللہ نے فوری طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم حزب اللہ کے ایک سینئر عہدیدار نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تنظیم لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی افواج کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی 2 مارچ سے پہلے کی صورتحال کی بحالی قبول کرے گا۔
لبنان اس علاقائی جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس کے بعد اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی اور اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں زمینی دراندازی بھی کی۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 3,912 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں طبی عملہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس دوران کم از کم 32 اسرائیلی فوجی اور 4 شہری مارے گئے ہیں۔
ایران۔امریکہ مذاکرات کے امکانات غیر واضح
جنگ جاری رہنے کے باعث یہ واضح نہیں تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے جلد کوئی بامعنی مذاکرات شروع ہو سکیں گے یا نہیں۔ اس معاہدے کا مقصد 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کا خاتمہ ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، تہران میں موجود تھے جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری خبر ایجنسی ایسنا کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
جنگ کے اثرات اور عبوری معاہدے کی تفصیلات
ایران جنگ میں اب تک کم از کم 8,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت ایران اور لبنان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس نے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔
عبوری معاہدے کے تحت ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی،منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل کی برآمدات کے لیے فوری امریکی چھوٹ فراہم کی جائے گی۔اس معاہدے میں ایران کی تعمیر نو اور دیگر مالی مراعات کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کا بھی تصور شامل ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے کا دفاع کیا حالانکہ واشنگٹن میں اس پر تنقید کی جا رہی ہے، جس میں کانگریس میں موجود ان کے بعض ریپبلکن اتحادی بھی شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے انہوں نے بہت زیادہ رعایتیں دے دی ہیں۔ یہ جنگ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل زیادہ تر امریکی عوام میں غیر مقبول سمجھی جا رہی ہے۔




