امریکہ کے ایران پر حملے، میزائیل اورڈرونز کے ذخائرسمیت ریڈارتنصیات کونشانہ بنانے کا دعویٰ

Published On: 27 June, 2026 12:07 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکہ کے ایران پر حملے، میزائیل اورڈرونز کے ذخائرسمیت ریڈارتنصیات کونشانہ بنانے کا دعویٰ

فوٹو اے آئی

امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں ۔ اس نے یہ حملے جمعے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پرہوئے ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں ۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتہ قبل طے پانے والی عبوری مفاہمتی یادداشت کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان ہے

امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں ۔ اس نے یہ حملے جمعے کے روز آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پرہوئے ڈرون حملے کے جواب میں کیے ہیں ۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتہ قبل طے پانے والی عبوری مفاہمتی یادداشت(MoU) کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان ہے، جس کے تحت وہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے اور اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے کام شروع کرنے پر متفق ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ڈرون حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی تھا۔ امریکی حملے اس وقت کیے گئے جب ٹرمپ نے میڈیا سے یہ پوچھے جانے پر کہ آیا امریکہ جواب دے گا انھوں صرف اتنا کہا،آپ کو پتہ چل جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران میں میزائل اور ڈرون تنصیبات کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار مراکز کو نشانہ بنایا۔


ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی (Ebrahim Azizi, head of the Iranian parliament's national security commission)نے جمعہ کواس سے قبل سوشل میڈیا پرٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے انتظام میں ہے، اس لیے ضوابط کا احترام کریں اور کنٹرول کو کشیدگی نہ سمجھیں۔عزیزی نے لکھا کہ یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں بلکہ جنگ بندی کا انتظام ہے۔

 وینس کی تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی دھمکی 
جمعہ کی شام امریکی نائب صدر جے ڈی وینس(Vice President JD Vance ) نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر ایران کو جنگ بندی کے معاہدے(US Iran ceasefire agreement) پر کوئی اختلاف ہے تو اسے فون اٹھانا چاہیے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔

 حملے ایک گھنٹے رہے جاری 
ایران پر امریکی حملے، امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوجی کارروائی کے اعلان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ختم ہوگئے ۔ اس صورتحال سے باخبر ایک امریکی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ عہدیدار نے جاری فوجی آپریشن کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

برطانوی فوج نے جمعرات کو کہا تھا کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر بردار جہاز کسی نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران نے چند گھنٹے قبل جہازوں کو اس راستے کے استعمال سے باز رہنے کی دھمکی دی تھی۔برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹ(United Kingdom Maritime Trade Operations center)نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ پیش رفت ایسے نازک وقت میں سامنے آئی جب امریکہ اور ایران جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے طے پانے والے عبوری معاہدے کے باوجود ایران آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) پر اپنے کنٹرول کے معاملے میں خطے اور امریکہ کو مسلسل چیلنج کرتا رہا ہے۔

کارگو جہاز پر حملہ اس وقت ہوا جب اقوام متحدہ کی ایک بحری ایجنسی نے اس ہفتے آبنائے میں پھنسے جہازوں کو ایک متبادل راستے سے نکالنے کا آپریشن شروع کیا تھا، جس میں جہاز آبنائے کے وسط سے گزرنے کے بجائے عمان کے ساحل کے قریب سے سفر کر رہے تھے۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن(The International Maritime Organization) نے حملے کے بعد انخلا کا عمل روک دیا اور جمعہ کو کہا کہ جب تک اس بات کی ضمانت نہیں ملتی کہ باقی جہازوں پر حملہ نہیں ہوگا، آپریشن دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا۔

ادارے کے سکریٹری جنرل آرسینیو دومینگیز(Arsenio Dominguez) کے مطابق، حالیہ دنوں میں تقریباً 115 جہاز آبنائے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، تاہم اب بھی تقریباً 500 جہاز وہاں موجود ہیں۔

آبنائے ہرمزمیں متبادل راستہ کھولنے کا مقصد عالمی معیشت پر دباؤ کم کرنا اور جاری امن مذاکرات میں ایران کے سب سے بڑے دباؤ کے ذریعے کو کمزور کرنا تھا۔امریکہ اور ایران اب بھی مستقل معاہدے کی شرائط پر مذاکرات کر رہے ہیں، جن میں اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور ایران کے اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل شامل ہے۔عبوری معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو ان تمام تفصیلات کو طے کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے ہیں۔

کارگو جہاز پرحملہ بحری جہازرانی کے لیے نیا امتحان

شپنگ تجزیہ کاروں نے کہا کہ ڈرون حملے نے اس امید کو دھچکا پہنچایا ہے کہ خلیج میں پھنسے ہوئے جہاز معمول کے مطابق روانہ ہونا شروع ہوگئے ہیں اور خام تیل لے جانے والے ٹینکروں کی آمدورفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی ونڈورڈ( Marine Data Company Windward ) نے ایکس پر لکھاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی اعتماد کی بحالی کے ایک ہفتے کو اپنے پہلے بڑے امتحان کا سامنا ہے۔

کمپنی نے کہا کہ اگرچہ واقعے کے بعد بھی 43 جہاز آبنائےہرمز سے گزرے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ راستہ عملی طور پر کھلا ہے، تاہم معمول کی صورتحال کی طرف واپسی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

جمعرات کے ڈرون حملے سے ایک روز قبل بدھ کو 78 جہاز آبنائے سے گزرے تھے، جو جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی، تاہم یہ جنگ سے پہلے روزانہ گزرنے والے 130 یا اس سے زائد جہازوں کی اوسط سے اب بھی کم ہے۔