قطر میں امریکہ، ایران اور ثالثوں کے درمیان اہم مذاکرات، اگلا دور جلد متوقع

Published On: 02 July, 2026 08:46 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
قطر میں امریکہ، ایران اور ثالثوں کے درمیان اہم مذاکرات، اگلا دور جلد متوقع

(فوٹورائٹرز)

دوحہ میں امریکہ اور ایران کی ثالوں سے بات چیت مکمل ہوگئی ہے۔ بات چیت میں مثبت پیش رفت کا دعوی کیا جارہا ہے ۔

امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے بدھ کے روز قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں مثبت پیش رفت ہوئی اور دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ بات میزبان ملک قطر نے بتائی۔

قطرکی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر کہا کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر، مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای، کی آخری رسومات کے بعد اگلی ملاقات جلد از جلد طے کی جائے گی ۔ ان کی نماز جنازہ ہفتے کے روز تہران میں ادا کی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر قطر میں موجود تھے، جہاں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کاظم غریب آبادی بھی شریک تھے۔

مذاکرات کار ایسے نکات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو اعلیٰ قیادت کے درمیان کسی معاہدے کی راہ ہموار کر سکیں، تاہم آبنائے ہرمز اور لبنان سے متعلق اختلافات اب بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

 آبنائے ہرمز مذاکرات میں اہم اختلافی نکتہ

ایران اور امریکہ نے ایک عبوری معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جہاز 60 روز تک کسی قسم کی فیس ادا کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے ۔ تاہم بعد میں تہران نے اصرار کیا کہ بحری راستوں کا کنٹرول اس کے پاس ہوگا اور بعد میں گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ میں کئی دہائیوں سے رائج طریقہ کار بدلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

امریکہ اور خلیجی عرب ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ان مجوزہ فیسوں کو قبول نہیں کریں گے۔ عمان اور اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی جانب سے عمان کے ساحل کے قریب ایک نیا بحری راستہ شروع کرنے کی کوشش کے بعد گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ میں حملے ہوئے، جنہوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا۔


 قطر کی دونوں فریقوں سے ملاقاتیں
اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بدھ کے روز قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کی۔ قطری حکومت کے بیان کے مطابق ملاقات میں متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق تفصیلات بھی زیر بحث آئیں۔انہوں نے کہاکہ یقیناً ہمیں جوہری معاملے پر تشویش ہے اور ہم اس پر بھی بات چیت کا آغاز کریں گے۔

دوسری جانب شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کاظم غریب آبادی اور دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔

غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی وفد کی امریکی وفد سے کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی، بلکہ ثالثوں کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں لبنان کی صورتحال اور ایران کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی واپسی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی اس کی تصدیق کی۔

لبنان بھی مذاکرات میں ایک اہم تنازع
لبنان کا معاملہ بھی مذاکرات میں ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جاری تمام لڑائی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے دستبردار ہو جن پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار چاہتا ہے ، کیونکہ حزب اللہ شمالی اسرائیل پر مسلسل حملے کرتی رہی ہے۔