آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ، تہران میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

Published On: 03 July, 2026 12:59 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ، تہران میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

(فوٹورائٹرز)

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، جنہوں نے 36 سال سے زائد عرصے تک ملک کی قیادت کی، ان کی نمازِ جنازہ میں 2 کروڑ افراد شرکت کریں گے- ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین کے ساتھ ہی رسومات کا اختتام ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع امام رضا کے مزار پر ہو گا۔

 سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق، آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ادا کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ان تقریبات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ تک افراد کی شرکت متوقع ہے۔


آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت جمعے کے روز تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھ دیے گئے، جہاں عوام ،آخری دیدار کرسکیں گے۔

آخری رسومات سے قبل  تہران میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مختلف پابندیاں بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز تہران کے اہم شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر مسلسل گشت کر رہی ہیں تاکہ آخری رسومات کے دوران امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایران میں ہفتے سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بندرہیں گے ۔ اس دوران تہران کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر خصوصی پابندیاں نافذ رہیں گی جبکہ فضائی حدود بھی مرحلہ وار بند کی جا رہی ہے۔ جمعے سے جزوی طور پر فضائی حدود محدود کر دی گئی ہیں جبکہ پیر کے روز مکمل طور پر فضائی آپریشن معطل رکھا جائے گا۔

تہران، قم اور مشہد میں ان دنوں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ شہری بڑی تعداد میں آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔

تہران میں نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات کے بعد علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی۔ اس کے بعد میت کو واپس ایران لا کر 9 جولائی کو مشہد میں حضرت امام

رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔


رپورٹس کے مطابق دنیا کے تقریباً 30 ممالک کے سرکاری نمائندوں اور اعلیٰ شخصیات کی بھی ان تقریبات میں شرکت متوقع ہے، جس کے باعث سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔