اچھی نیند اچھی صحت کی ضامن ، محققین کا نوجوانوں کو مشورہ

Published On: 03 July, 2026 07:25 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
اچھی نیند  اچھی صحت کی ضامن ، محققین کا نوجوانوں کو مشورہ

(فوٹوفری پِک)

ایک طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اچھی اور مکمل نیند نہ صرف دماغ بلکہ جسم کے میٹابولزم اور بلڈ شوگر کو بھی صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 آج کی تیزرفتار زندگی میں نیند کو اکثر نظراندازکردیا جاتا ہے جب کہ یہ روزمرہ زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔نیند نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

ڈنمارک میں ہوئی ایک طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اچھی اور مکمل نیند نہ صرف دماغ بلکہ جسم کے میٹابولزم اور بلڈ شوگر کو بھی صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے۔ تحقیق کے مطابق جو نوجوان روزانہ رات میں 7 سے 8 گھنٹے سوتے ہیں، ان میں اگلے دن خون میں شوگر کی سطح زیادہ دیر تک متوازن رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند، ذیابیطس جیسی بیماریوں کے ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے ہی جسم کے میٹابولزم پر مثبت اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔

اس ریسرچ میں  18 سال کی عمر کے 200سے زائد نوجوانوں کو شامل کیا گیا اور ان کی دو ہفتوں تک روزمرہ کی سرگرمیوں اور نیند کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق، جن افراد نے زیادہ اور بہتر نیند لی، ان کے بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ نمایاں طور پر کم رہا۔ ماہرین کے مطابق خون میں شوگر کی سطح کا بار بار تیزی سے بڑھنا یا کم ہونا جسم میں سوزش، میٹابولزم پر دباؤ، موٹاپے اور اس کے بعد ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

محققین نے نشاندہی کی کہ اگرچہ نیند اور میٹابولک بیماریوں کے درمیان تعلق پر پہلے بھی تحقیق ہو چکی ہے لیکن زیادہ تر مطالعات درمیانی عمر کے افراد پر کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ذیابیطس صرف بڑی عمر کے افراد کی بیماری ہے، حالانکہ کم عمری میں بھی بلڈ شوگر کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ دیر تک سونے والے افراد میں صبح کے وقت بلڈ شوگر کی سطح معمولی زیادہ ہوتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت شوگر کی سطح میں معمولی اضافہ میٹھا کھانے کی خواہش کم کرتا ہے اور پورے دن بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے بہتر انداز میں تیار رہتا ہے۔

اگرچہ محققین ابھی یہ واضح نہیں کر سکے کہ نیند اور بلڈ شوگر کے درمیان یہ تعلق کس حیاتیاتی نظام کے ذریعے قائم ہوتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی مضبوط نشاندہی کرتے ہیں کہ معیاری نیند صرف ذہنی سکون ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت، میٹابولزم اور مستقبل میں ذیابیطس سے تحفظ کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔