جی ڈی ای ایل ٹی کے اعداد و شمارکے مطابق 2017 سے مغربی میڈیا میں ’ان شاء اللہ‘ کا تذکربڑھا ہے ۔ اس رجحان میں 2017 میں لنڈسے لوہن کی انسٹاگرام پوسٹ، 2019 میں الہان عمر اور رشیدہ طلیب کا امریکی کانگریس کے لیے انتخاب اور صدارتی مباحثے کے دوران ’ان شاء اللہ‘ کے استعمال جیسے واقعات نے اہم کردار ادا کیا۔
اداکارہ این ہیتھوے(Anne Hathaway ) نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران ’ان شاء اللہ‘ (InshaAllah)کا لفظ استعمال کیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی اور اسے لاکھوں افراد نے پسند کیا۔ این ہیتھوے ان متعدد معروف شخصیات میں تازہ ترین مثال ہیں جن کے ذریعے گزشتہ چند برسوں سے عربی الفاظ مغربی دنیا میں زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اس رجحان کی تازہ مثال ہے جو کئی برسوں سے مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
دی نیشنل کی جانب سے عالمی خبروں کے ڈیٹا بیس جی ڈی ای ایل ٹی (GDELT) کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 2017 کے بعد سے انگریزی زبان کے ذرائع ابلاغ میں ’ان شاء اللہ‘ کے استعمال میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
ان شاء اللہ جس کا مطلب اگر اللہ نے چاہا ہے، مغربی پاپ کلچر میں پہلی بار نمایاں طور پر 2016 میں گلوکار اسٹنگ(Sting) کے گیت Inshallah کے ذریعے سامنے آیا۔ اس کے بعد یہ لفظ اصل دھارے کے انگریزی میڈیا میں تیزی سے استعمال ہونے لگا اور اکثر اسے کسی وضاحت یا ترجمے کے بغیر ہی لکھا جانے لگا۔
جی ڈی ای ایل ٹی دنیا بھر کے ہزاروں آن لائن، ٹی وی، ریڈیو اور پرنٹ ذرائع ابلاغ میں استعمال ہونے والی زبان کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’ان شاء اللہ‘ بتدریج انگریزی خبروں کی روزمرہ زبان کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
آن لائن بھی دلچسپی میں اضافہ
یہ رجحان صرف خبروں تک محدود نہیں بلکہ انٹرنیٹ پر بھی نمایاں نظر آتا ہے۔گوگل سرچ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ان شاء اللہ کے معنی کی تلاش تقریباً 130 فیصد بڑھ گئی ہے۔
اسی عرصے میں ان شاء اللہ کے عربی سے انگریزی میں ترجمے کی تلاش میں 700 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ ماشاء اللہ بمقابلہ ان شاءاللہ کی تلاش تقریباً 1,800 فیصد بڑھ گئی، جو ظاہر کرتی ہے کہ انگریزی بولنے والے افراد ان عربی اصطلاحات کے مفہوم کو جاننے میں پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔
اس رجحان کے پیچھے اہم واقعات
2017 میں’ ان شاء اللہ‘ کا ذکر خبروں میں نمایاں طور پر اس وقت بڑھا جب اداکارہ لنڈسے لوہن(Lindsay Lohan) نے انسٹاگرام پر ’ان شاء اللہ‘ لکھا، جس کے بعد ان کے اسلام قبول کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
دو سال بعد الہان عمر(Ilhan Omar) اور رشیدہ طلیب (Rashida Tlaib)امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خواتین بنیں، جس کے بعد عربی اور اسلامی اصطلاحات امریکی سیاسی خبروں میں زیادہ استعمال ہونے لگیں۔
2020 میں اس لفظ کا استعمال ایک بار پھر بڑھ گیا۔ پہلے بیروت بندرگاہ کے دھماکے کے بعد لبنان سے آنے والی خبروں میں ’ان شاء اللہ‘ زیادہ سنائی دیا اور چند ہفتوں بعد جو بائیڈن(Joe Biden) نے ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump)کے خلاف صدارتی مباحثے کے دوران یہ لفظ استعمال کیا، جس نے امریکی میڈیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی ’ان شاء اللہ‘ مغربی دنیا میں مزید معروف ہوگیا، کیونکہ سوشل میڈیا پر غزہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور انفلوئنسرز کی گفتگو میں یہ لفظ بار بار سنائی دیتا رہا۔
اس سال این ہیتھوے کے انٹرویو کے بعد ایک بار پھر اس لفظ پر توجہ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دیگرعربی الفاظ بھی بنا رہے ہیں انگریزی میں جگہ
الفاظ اکثرلغات میں شامل ہونے سے پہلے ہی مختلف زبانوں میں رائج ہو جاتے ہیں۔ خبریں، ہجرت، تفریح اور سوشل میڈیا اس عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔آج کل ان شاء اللہ،حبیبی اوران شاء اللہ جیسے عربی الفاظ انگریزی گفتگو میں بھی بغیر ترجمے کے استعمال کیے جا رہے ہیں۔




