مصر میں بازنطینی دور کا شہر اور قدیم مقبرے دریافت

Published On: 06 July, 2026 03:41 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
مصر میں بازنطینی دور کا شہر اور  قدیم مقبرے دریافت

(فوٹواے پی)

داخلہ اویسس میں چوتھی صدی عیسوی کا محفوظ رہائشی شہر، گرجا گھر، سکے اور روزمرہ زندگی کے شواہد ملے ہیں۔ داخلہ اویسس اس وقت یونیسکو کی عارضی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے، جو مستقبل میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

مصر میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دو بڑی دریافتوں کا اعلان کیا ہے، جنہیں ملک کی حالیہ برسوں کی اہم ترین آثارِ قدیمہ کی دریافتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ مغربی صحرا کے داخلہ اویسس(Dakhla Oasis ) میں بازنطینی دور( Byzantine-era ) کا ایک نہایت محفوظ رہائشی شہر دریافت ہوا ہے جبکہ اسکندریہ(Alexandria) کے قریب مرینا العلمین( Marina el-Alamein ) کے مقام سے 18 قدیم مقبرے برآمد ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دریافتوں سے مصر کی قدیم تہذیب، شہری زندگی اور مذہبی روایات کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں گی۔

مصر کی وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ(The Tourism and Antiquities Ministry of Egypt ) کے مطابق داخلہ اویسس میں دریافت ہونے والا شہر چوتھی صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے، جب مصر بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا۔ کھدائی سے معلوم ہوا ہے کہ شہرمنصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، جہاں شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جانے والی سڑکیں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے عوامی چوکوں اور کھلی جگہوں تک پہنچتی تھیں۔

سپریم کونسل آف اینٹیکوئٹیز کے سکریٹری جنرل ہشام اللیثی کے مطابق شہر کے بلند حصے پر چوتھی صدی کے وسط کا ایک باسیلیکا طرز کا گرجا گھر دریافت ہوا ہے، جبکہ اطراف کی نگرانی کے لیے تعمیر کیے گئے دو واچ ٹاورز کے آثار بھی ملے ہیں۔

آثارِ قدیمہ مشن کے سربراہ محمود مسعود نے بتایا کہ ماہرین کو ایک مضبوط قلعہ نما عمارت، موٹی حفاظتی دیواریں اور محرابی چھتوں والے متعدد مکانات بھی ملے ہیں۔ ان میں ایک مکان چرچ کے خادم تیسوس کا تھا، جسے ماہرین ابتدائی دور میں عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہونے والا گھر قرار دے رہے ہیں۔

کھدائی کے دوران تنور، باورچی خانے، اناج پیسنے کے پتھر، بازنطینی شہنشاہوں کی تصاویر والے کانسے کے سکے، لاطینی زبان کی تحریریں اور مسیحی علامات بھی دریافت ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ رومی شہنشاہ قسطنطیوس دوم (337ء تا 361ء) کے دور کے سونے کے سکے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

اسلامی، قبطی اور یہودی آثارِ قدیمہ کے شعبے کے سربراہ ضیاء زہران کے مطابق تقریباً 200 مٹی کے ٹکڑے، جنہیں اوستراکا (Ostraca) کہا جاتا ہے، بھی ملے ہیں۔ ان پر تجارتی لین دین، خطوط اور روزمرہ زندگی سے متعلق تحریریں درج ہیں، جو اس دور کے معاشی اور سماجی حالات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

دوسری جانب اسکندریہ سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع مرینا العلمین کے آثارِ قدیمہ کے مقام پر 18 مزید قدیم مقبرے دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں 11 مقبرے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے، جبکہ سات چونے کے پتھر سے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان نئی دریافتوں کے بعد اس مقام سے ملنے والے مقبروں کی مجموعی تعداد 48 ہو گئی ہے۔

ماہرین کو یہاں مٹی کے برتن، امفورا، چراغ، پلیٹیں، قربان گاہیں، چونے کے پتھر کے حوض اور ڈھائی میٹر لمبا گرینائٹ کا تابوت بھی ملا ہے، جس میں انسانی ڈھانچے کی باقیات موجود ہیں اور ان کا سائنسی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تابوت کے قریب پلستر سے بنی ابوالہول ( Sphinx ) کے مجسمے کی باقیات بھی ملی ہیں ۔مرینا العلمین کو ماہرین قدیم یونانی-رومی بندرگاہی شہر لیوکاسپس قرار دیتے ہیں، جو دوسری صدی عیسوی میں آباد ہوا اور چوتھی صدی تک بحیرۂ روم کے ساحل پر ایک اہم تجارتی مرکز رہا۔

مصرکی حکومت کو امید ہے کہ یہ نئی دریافتیں آثارِ قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کو مزید متوجہ کریں گی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال مصر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آئے، جو 2024 کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ تھے، جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران 61 لاکھ سیاحوں نے مصر کا رخ کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے زیادہ ہیں۔