(فوٹواے پی)
یوکرین پر روسی حملوں میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے ۔ روس کے ڈرون اور میزائل حملوں سے نمٹنے میں یوکرین کوپریشانیوں کا سامنا ہے حتیٰ کہ یوکرین نے فضائی دفاع میں شدید کمی کا اعتراف کیاہے۔ صدر زیلنسکی نے نیٹو سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
یوکرین پرروس کے حملوں میں شدت آئی ہے ۔ آج (پیر،6جولائی) روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف(Kyiv) پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملے کیے جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے۔ حملے کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور یوکرین کے فضائی دفاع میں موجود کمزوریاں ایک بار پھر نمایاں ہوئیں، جبکہ صدر زیلنسکی
(Ukrainian President Volodymyr Zelenskyy ) نے مغربی اتحادیوں سے فوری طور پر مزید پیٹریاٹ دفاعی میزائل فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے رات بھر 351 ڈرون اور 68 میزائل داغے، جن کا ہدف دارالحکومت کیف تھا۔ فضائیہ کے ترجمان یوری انہات( Air Force Spokesman Yurii Ihnat) نے بتایا کہ روس کے داغے گئے تمام 29 بیلسٹک میزائل(Ballistic missiles) اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، کیونکہ یوکرین کے پاس انہیں روکنے کے لیے پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں (Patriot interceptors)کی شدید کمی ہے۔
صدر زیلنسکی نے حملے کے بعد کہا کہ یوکرینی دفاعی نظام نے ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خلاف مؤثر کارکردگی دکھائی، تاہم بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے دستیاب وسائل ناکافی ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ نیٹو اجلاس(NATO summit ) میں یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس فیصلے کریں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل جمعرات کو بھی روسی حملے میں کیف میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے، جو رواں سال دارالحکومت پر ہونے والا مہلک ترین حملہ تھا۔
روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ تازہ حملوں میں کیف کے اسلحہ ساز کارخانوں، ڈرون اور میزائل تیار کرنے والے مراکز، فضائی دفاعی نظام کی مرمت کی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اقوام متحدہ کے مطابق فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے کے آغاز سے اب تک یوکرین میں 16 ہزار سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ روسی فضائی حملوں میں متعدد بار رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ پوڈلسکی ضلع میں ایک رہائشی عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی، جبکہ دارنیتسیا ضلع میں کئی بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
شعلے اور تباہی
دارنیتسیا کی رہائشی 20 سالہ خریستینا پیاتیٹسکا نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے چند لمحوں بعد دوسرا دھماکہ ہوا، جس سے ان کے اپارٹمنٹ کی تمام کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
انہوں نے بتایاکہ بجلی بند ہو گئی، ہر طرف دھواں اور جلنے کی بو پھیل گئی۔ جب ہم عمارت سے باہر نکلے تو لاشیں پڑی تھیں، گاڑیاں دھماکوں سے پھٹ رہی تھیں اور ہم ملبے سے نکل کر سیدھے آگ کے درمیان پہنچ گئے۔
61 سالہ ہالینا ایوانیونا نے بتایا کہ رات تقریباً دو بجے پہلے دھماکے سے ان کی آنکھ کھلی اور چند لمحوں بعد پوری عمارت لرزنے لگی۔ ان کے مطابق پانچ منٹ بعد دوسرا حملہ ہوا جبکہ امدادی کارکن رہائشیوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔
کریمیا اور روس میں بھی یوکرینی حملے
دوسری جانب روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہو گئی۔ سیواستوپول کے روس نواز گورنر میخائل رازووژائیف نے کہا کہ یوکرینی حملے کے باعث بجلی منقطع ہوئی، تاہم بعد میں متبادل نظام کے ذریعے بحال کر دی گئی۔
روس کے یاروسلاول علاقے کے گورنر میخائل یاورائیف کے مطابق یوکرینی ڈرون حملے میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ روسی فضائی دفاع نے 70 سے زائد ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملے کا ہدف ایک آئل ریفائنری تھی، جہاں آگ لگ گئی۔
روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائی دفاعی تنصیبات نے ایک ہی رات میں یوکرین کے 519 ڈرون تباہ کیے۔




