امریکہ کے ایران پرتازہ حملے،تہران کابحرین اورکویت میں امریکی اڈوں کونشانہ بنانےکادعویٰ

Published On: 08 July, 2026 11:40 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
امریکہ کے ایران پرتازہ حملے،تہران کابحرین اورکویت میں امریکی اڈوں کونشانہ بنانےکادعویٰ

(فوٹواے پی)

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے جواباً بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکہ اورایران کے بیچ ایک بار پھرکشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ تازہ کشیدگی کے سبب جنگ بندی، آبنائے ہرمزکی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام پر متوقع مذاکرات کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق بدھ(8 جولائی) کی علی الصبح کی گئی کارروائی  آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔ امریکی بیان کے مطابق حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور پاسدارانِ انقلاب کی درجنوں تیز رفتار کشتیاں نشانہ بنائی گئیں، جو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔

ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم اس نے  کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندرعباس، قشم اور سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جواباً بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بحرین اور کویت میں میزائل الرٹ جاری کیے گئے۔بحرین میں  امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا ہے اور کویت میں  امریکی بری فوج کی اہم تنصیبات موجود ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ پر جنگ بندی اورمفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس نے  ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں پر حملے کیے۔

ایرانی تیل کی فروخت پر نئی پابندی

امریکہ نے عبوری معاہدے کے تحت ایران کو عالمی منڈی میں  خام تیل فروخت کرنے کی دی گئی خصوصی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایران کے لیے امریکی ڈالر میں براہِ راست تیل کی تجارت دوبارہ محدود ہو جائے گی۔

ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل کے نزدیک ایک آئل ٹینکر حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ مزید دو تجارتی جہازوں کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے ۔

 مذاکرات کا مستقبل غیر واضح

تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آحری رسوم کی تقریبات جاری ہیں۔  جمعرات کو خامنہ ای کو ایران کے شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ان کی تدفین کے بعد آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر حساس معاملات پر حتمی مذاکرات شروع ہونے کی توقع تھی، تاہم حالیہ حملوں کے بعد ان مذاکرات پر غیر یقینی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ دھونس اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا ہے، ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔