(فوٹورائٹرز)
شیخ محمد حسین نے مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیا اور امامت کرائی جس کے چند ہی لمحوں بعد اسرائیلی فوج نے انھیں حراست میں لے لیا۔
اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے خطیب وامام شیخ محمد حسین کوجمعے کی نمازکے بعد حراست میں لے لیا ۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ محمدحسین نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کا خطبہ دیا اور نمازکی امامت کرائی جس کے چند ساعت بعد اسرائیلی فورسز نے انھیں مسجد کے احاطے سے حراست میں لے لیا۔
عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فورسزنے شیخ محمد حسین کوگھیرے میں لے کرنامعلوم مقام پرمنتقل کر دیا ۔ فوری طور پراسرائیلی حکام کی جانب سے اس گرفتاری کے حوالے سے باضابطہ کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ فلسطینی حلقوں نے شیخ محمد حسین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ میں مذہبی شخصیات کی گرفتاری اسرائیلی حکام کی جانب سے مذہبی آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور مقدس مقام پر سخت سکیورٹی اقدامات کا تسلسل ہے۔
حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فورسزکی جانب سے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں، مذہبی رہنماؤں اور وقف حکام کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس پر فلسطینی قیادت اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں متعدد بار تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
شیخ محمد حسین فلسطین کی ممتاز مذہبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور وہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے مذہبی و انتظامی امور پر باقاعدگی سے مؤقف پیش کرتے رہے ہیں۔
ان کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی اقدامات پر بین الاقوامی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔




