ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم کامختصر اور اچانک علالت کے بعد انتقال

Published On: 12 July, 2026 03:20 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم کامختصر اور اچانک علالت کے بعد انتقال

(فوٹواے پی)

ریپبلکن لیڈر لنڈسے گراہم مختصر علالت کے بعد چل بسے، ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور جارحانہ امریکی خارجہ پالیسی کے نمایاں حامی تھے۔

 امریکہ کے ریپبلکن سینیٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی لنڈسے گراہم(Lindsey Graham) ہفتے کی شام مختصر اور اچانک علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ71 برس کے تھے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ،گراہم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وہ مختصر بیماری کے بعد انتقال کر گئے۔ مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں جبکہ اہلِ خانہ نے اس مشکل وقت میں رازداری اور دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(President Donald Trump) نے سوشل میڈیا پر  لکھا کہ ، وہ(لنڈسے گراہم ) ہمیشہ متحرک رہتے تھے اور ایک سچے امریکی محبِ وطن تھے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

امریکی سینیٹ میں اکثریت کے رہنما جان تھیون(Senate Majority Leader John Thune) نے بھی گراہم کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فضائیہ اور کانگریس میں طویل خدمات انجام دیں اور دنیا بھر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے موقف کی بھرپور وکالت کی۔

گراہم پہلی بار 2002 میں امریکی سینیٹ( U.S. Senate) کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ ایوان نمائندگان(ٓHouse of Representative) کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے 2016 میں ریپبلکن صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کی تھی اور ابتدائی مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید بھی کی، تاہم اس کےبعد وہ ٹرمپ کے حامیوں  میں شامل ہوگئے۔

خارجہ پالیسی کے معاملات میں گراہ کا شمار صدر ٹرمپ کے اہم مشیروں میں ہوتا تھا ۔ ایران، روس اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی پر ان کا نمایاں اثر رہا۔ چند روز قبل ہی انہوں نے روس پر مزید پابندیوں کے ایک مجوزہ پیکج پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔

گراہم حال ہی میں یوکرین کے دورے پر بھی گئے تھے، جہاں صدر وولودیمیر زیلنسکی(Ukrainian President Volodymyr Zelenskyy) نے ان کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

ایوانِ نمائندگان کے رکن کی حیثیت سے بھی لنڈسے گراہم ایران کے خلاف سخت پابندیوں اور اس کے میزائل و جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی پالیسیوں کے حامی رہے۔ وہ گزشتہ برس ایران کے جوہری مراکز پر امریکی حملوں اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران بھی سخت موقف رکھتے تھے۔

لنڈسے گراہم کی شناخت طویل عرصے تک  سینیٹر جان مکین کے قریبی ساتھی کے طور پر بھی رہی۔ جان مکین اور سابق سینیٹر جو لیبرمین کے ساتھ انہیں امریکی سیاست میں تھری امیگوز (Three Amigos)کے نام سے جانا جاتا تھا، جو دنیا بھر میں امریکہ کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے موقف کی حمایت کرتے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو(Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu) نے بھی گراہم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کا عظیم دوست قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گراہم امریکہ اور اسرائیل کی سلامتی کو ایک دوسرے سے مربوط سمجھتے تھے اور انہوں نے پوری زندگی امریکہ، اسرائیل اور آزاد دنیا کے دفاع کے لیے کام کیا۔ انہوں نے گراہم کے اہلِ خانہ اور امریکی عوام سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔