فوٹو اے پی
اسرائیلی فوج نے 7اکتوبر کا حملہ روکنے میں ناکام ہونے والے افسروں کوبرطرف کردیا ہے۔ ایسا ادارہ جاتی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تین مستعفی جرنیلوں کی برطرفی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی گئی ہے جبکہ مزیدچار جرنیلوں اور متعدد اعلیٰ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے 7اکتوبر کا حملہ روکنے میں ناکام ہونے والے افسروں کوبرطرف کردیا ہے۔ ایسا ادارہ جاتی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تین مستعفی جرنیلوں کی برطرفی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی گئی ہے جبکہ مزیدچار جرنیلوں اور متعدد اعلیٰ افسران کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ، برطرف کیے گئے جرنیلوں میں تین ڈویژنل کمانڈر شامل ہیں۔ ان میں ایک حملے کے وقت ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں افسران حماس کی جانب سے غزہ سے کیے گئے حملے کو روکنے میں ناکامی کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں۔خیال رہے کہ، برطرف کیے گئے تینوں افسر پہلے ہی اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد فوجی افسروں کو بتایا گیا کہ انہیں ریزرو ڈیوٹی سے الگ کر دیا کر دیا جائے گا اور وہ آئندہ فوج میں خدمات انجام نہیں دے سکیں گے ۔ جن اسرائیلی فوجی حکام کو آئندہ فوج میں ریزرو ڈیوٹی دینے سے معزول کیا گیا ہے ان میں انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ اور آپریشنز ڈائریکٹوریٹ اور اسرائیلی جنوبی کمانڈ کے سابق سربراہان شامل ہیں۔ اسرائیل کے فوجی سربراہ ایال زامیر کا کہنا ہے کہ، فوج 7 اکتوبر کو اپنے عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی جو اس فوج کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
گزشتہ دو برسوں سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو باربار یہ کہتے سنا گیا تھا کہ 7 اکتوبر2023 کے حملوں کی وجہ بننے والی ناکامیوں کے حوالے سے کارروائی غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد کی جائے گی ۔ یہ اقدام فوج ے ادارہ جاتی تحقیقات کا نتیجہ ہیں ۔ نیتن یاہو حکومت نے اب تک اس حوالے سے کوئی کمیشن نہیں بنایا ہے ۔ اسرائیلی عوام بھی حملے کو روکنے میں ناکامی کے حوالے سے ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کے حق میں ہیں۔
واضح رہے کہ، 7 اکتوبر 2023کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 1221 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔حماس نے کئی اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بھی بنا لیا تھا ۔۔حماس کے اس حملےکے بعد،اسرائیل کی جوابی کارروائی میں 69 ہزار7سو56 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔
حماس اور اسرائیل کے بیچ گزشتہ ماہ اکتوبر میں جنگ بندی ہوئی تھی۔ امریکہ،مصر اور قطر کی ثالثی کے نتیجے میں دو سالہ اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بظاہرتھم گیا ہے لیکن گاہے بگاہے اسرائیلی حماس پرجنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرکے حملے کررہا ہے۔ جنگ بندی کے دوران اسرائیل نے چارسو سے زائد پر غزہ میں حملے کیے ہیں ان حملوں میں تین سو سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔




