آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات پرحجاب پننے پرپابندی، پارلیمنٹ نے قانون کو دی منظوری

Published On: 12 December, 2025 05:35 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
آسٹریا میں  14 سال سے کم عمر طالبات پرحجاب پننے پرپابندی، پارلیمنٹ نے قانون کو دی منظوری

فوٹو رائٹرز

یورپی ملک آسڑیا کی پارلیمان نے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کا نفاذ آئندہ تعلیمی سال سے ہوگا ۔

  یورپی ملک آسڑیا کی پارلیمان نے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کے متنازع قانون کو منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کا نفاذ آئندہ تعلیمی سال سے ہوگا ۔ یہ قانون پر دے کے اسلامی احکامات بشمول حجاب اور برقعے پرلاگو ہوگا ۔ اس کےتحت
 14 سال سے کم عمر طالبات کے لیے اسکولوں میں سر پر اسکارف پہننا ممنوع ہوگا۔ 

 آسٹریا کی حکومت کادعویٰ ہےکہ یہ اقدام لڑکیوں  کو ’جبر سے بچانے‘ کے لیے کیا گیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین نے اس اقدام کو تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ یہ معاشرتی تقسیم کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق،آئندہ سال (2026)فروری سے آگاہی کا ابتدائی مرحلہ شروع ہوگا جس میں اساتذہ، والدین اور طلبہ کو قوانین سے آگاہ کیا جائے گا اور خلاف ورزی پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔یہ قانون  ستمبر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا۔ 

قانون کے مکمل نفاذ کے بعد ، بار بار خلاف ورزی کی صورت میں والدین پر 150 سے 800 یورو (175 سے 930 ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق تقریباً 12 ہزار طالبات اس پابندی سے متاثر ہوں گی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریا نے اس قانون کو مسلمان لڑکیوں کے خلاف کھلا امتیاز اور اسلام مخالف تعصب کے اظہار کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات مسلمانوں کے بارے میں پہلے سے موجود تعصبات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ملک کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آئی جی جی او ای نے بھی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سماجی ہم آہنگی کو خطرہ ہے اور بچوں کو بااختیار بنانے کے بجائے بدنام اور الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کی تنظیم امازون کی مینیجنگ ڈائریکٹر اینجلیکا ایٹسنگر نے کہا کہ اسکارف پر پابندی لڑکیوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ان کے جسم کے بارے میں فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں ہیں۔

دوسری جانب مہاجر مخالف نظریات رکھنے والی دائیں بازو کی جماعت ایف پی او نے کہا کہ یہ پابندی ناکافی ہے اور مطالبہ کیا کہ اسے تمام طلبہ، اساتذہ اور اسکول عملے تک توسیع دی جائے۔

فرانس میں بھی 2004 سے اسکولوں میں ہیڈ اسکارف، پگڑی اور یہودی ٹوپی سمیت مذہبی شناخت ظاہر کرنے والے تمام نشانات پر پابندی عائد ہے، جو ملک کے سیکولر قوانین کے تحت ریاستی اداروں میں غیر جانب داری کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کی گئی تھی۔