فوٹوفائل رائٹرز
حلب میں برسرپیکار شامی فوج اورکردفورسز کشیدگی کم پر متفق ہوگئی ہیں ۔ اس طرح پیر سے جاری خونریز جھڑپوں کا سلسلہ تھم گیا ہے۔
حلب میں برسرپیکار شامی فوج اورکردفورسز کشیدگی کم پر متفق ہوگئی ہیں ۔ اس طرح پیر سے جاری خونریز جھڑپوں کا سلسلہ تھم گیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس نے شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنعاءکے حوالے سے بتایا ہے کہ، وزارت دفاع نے فوج کو کرد قیادت والی ایس ڈی ایف کوہدف نہ بنانے کا حکم دیا ہے۔ادھر، ایس ڈی ایف نے بھی جاری کردہ بیان میں کمانڈروں کو شامی فوج کے کسی حملے کا جواب نہ دینے کی ہدایت دی ہے۔
تیرکیہ کے وزیرخارجہ حکان فیدان کے دمشق دورے کے بعد حلب میں تشدد کی تازہ لہر میں دو شہری ہلاک جبکہ متعددزخمی ہوگئے تھے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر حملوں کا الزام لگایا تھا۔ خیال رہے کہ ،حکان فیدان نےدمشق دورے کے دوران دیئے بیان میں کہا تھا ایسا معلوم ہوتاہے کہ ایس ڈی ایف ریاستی فوج میں ضم ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جس کے لیے سال کے آخر میں ڈیڈلائن طے شدہ ہے۔
شام میں خانہ جنگی کے دوران بھی حلب کے ان علاقوں پر قبضے کے لیے شامی فوج اور کردوں کے بیچ محاذ آرائی ہوئی تھی۔تاہم یہ علاقے کردوں کے کنٹرول میں ہیں۔ان علاقوں میں نظم و نسق کی برقراری کے لیے شامی فوجیں اورکرد فورسز مشترکہ طور پر سرگرم رہتی ہیں۔
ترکیہ ، ایس ڈی ایف کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصورکرتا ہے کیونکہ ایس ڈی ایف کے کردستان ورکرس پارٹی سے مبینہ روابط ہیں اس لیے وہ شامی حکومت پر کرد فورسز کو شامی فوج میں ضم کرنے کا دباؤ بنا نے کی کوشش کررہا ہے۔
تازہ جھڑپوں کی لہر کے قلب میں وہ معاہدہ ہے جو رواں سال مارچ میں عبوری حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان طئے پایا تھا۔اس معاہدے کی رو سے ایس ڈی ایف کو شامی فوج میں ضم کرنے کی بات کہی گئی ہے اور یہ عمل اس سال کے آخر تک مکمل کیا جانا ہے جسے ختم ہونے میں اب کچھ ہی دن رہ گئے ہیں۔
فریقین معاہدے پر اُصولی طور پر رضامند ہیں لیکن اس پر عمل آوری کیسے ہوگی اس پر تعطل برقرارہے۔
واضح رہے کہ ایس ڈی ایف شام کے تیل کی دولت سے مالا مال شمال مشرقی حصے پر قابض ہے، جو اب تک قدرے خود مختار علاقہ رہا ہے۔
اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) حکومت کے ساتھ اپنی دشمنی ختم کرے گی اور خطے کی سرحدی چوکیوں، ہوائی اڈے اور تیل اور گیس کے اہم شعبوں کا کنٹرول شام کی حکومت کے حوالے کر دے گی۔ معاہدے کی ڈیڈلائن قریب آگئی ہے اور اس پر عمل درآمد کرنے کا کوئی خاکہ بظاہر نظرآرہا ایسی صورت میں آگے کا راستہ کانٹوں بھر ہوسکتا ہے۔




