ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت، ٹرمپ نے پھر دی دھمکی، خامنہ ای کا پلٹ وار

Published On: 10 January, 2026 10:32 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت، ٹرمپ نے پھر دی دھمکی، خامنہ ای کا پلٹ وار

ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری(فوٹواے پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ملک گیرمظاہروں پر ٹرمپ کہا ہے کہ ایران کی حکومت ’بڑی مصیبت‘ میں ہے، اگر اُنھوں نے مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔


ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کرتے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ تھمتا نظر نہیں آرہا۔ گزشتہ سال 28 دسمبر کو احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ایران میں  احتجاجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے بیچ جھڑپوں میں ہوئی ہلاکتوں کی تعداد کے تعلق سے متضاد خبریں میڈیا رپورٹس میں گردش کررہی ہیں۔

ِہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک 62 افراد ہلاک چکے ہیں ۔ اُن میں 14 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں ۔عالمی خبررساں رساں ادارے اے پی کے مطابق، کم سے کم 65 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

اس بیچ،امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 200سے تجاوز کرگئی ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

متعدد شہروں میں املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری عمارتوں،تجارتی مراکز، دکانوں اور عبادت گاہوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔ انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات ہنوز معطل ہیں۔جس سے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مقامی نیوز چینل نےتہران کے میئر علی رضا زکانی کے حوالے سے بتایا کہ مظاہرین نے 26 بینکوں، 2 اسپتالوں، 25 مساجد، پولیس تنصیبات اور  48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس بیچ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ملک گیرمظاہروں پر ٹرمپ کہا ہے کہ ایران کی حکومت ’بڑی مصیبت‘ میں ہے، اگر اُنھوں نے مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تو ہم کارروائی کریں گے۔ ہم اُنھیں ایسی شدت سے ماریں گے کہ اُنھیں بہت تکلیف ہو گی۔ 

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مظاہرین بعض شہروں پرایسے قبضہ کر رہے ہیں جن کے بارے میں کچھ ہفتے قبل تک کسی نےتصور نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ  ایران کی صورتحال پر امریکہ کی نظر  ہے۔ 

مظاہرین اقتصادی سست روی، کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ملک کے کم و بیش27 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔ 

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر سخت تنقید کرتے ہوئے انھیں چند شرپسندوں کا گروہ قراردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ،مظاہرین  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔