(فوٹورائٹرز)
ایران انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مظاہروں کی تفصیلات جیسے جیسے منظرعام پرآرہی ہیں ہلاکت وتباہی تصویرصاف ہورہی ہے ۔
ایران انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مظاہروں کی تفصیلات جیسے جیسے منظرعام پرآرہی ہیں ہلاکت وتباہی تصویرصاف ہورہی ہے اوراس کے پیمانے کی وسعت کا بھی اندازہ ہورہا ہے جو دل دہلانے والا ہے۔
حکومت کے کریک کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں حالانکہ ایران کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے متعلق کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے لیکن مظاہروں کے دوران کریک ڈاؤن میں ہزاروں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرز نے ایرانی عہدیدار کے حوالے سے 2000 مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔
اے پی کے مطابق امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ، ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم 646 ہو چکی ہے۔ ایجنسی کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں 10 ہزار 700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
پابندیوں میں نرمی
اس بیچ، گزشتہ چند دنوں سے جاری مواصلاتی خدمات پر پابندیوں میں قدرے نرمی کی گئی ہے۔ تاہم انٹرنیٹ خدمات ہنوز معطل ہیں۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق، بعض افراد نے بیرون ملک اپنے عزیزوں اوررشتہ داروں سے باتیں کی ہیں۔ عینی شاہدین نے تہران سمت دیگر شہروں میں سخت سکیورٹی انتظامات کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے جلی ہوئی عمارتوں، ٹوٹی ہوئی اے ٹی ایم اوراکّا دکّا راہ گیروں کو سڑکوں پر چلتے دیکھنے کی بات کہی ہے۔
سکیورٹی اہلکار شاہ راہوں اور عوامی مقامات پر بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ کئی بینکوں اور سرکاری دفاتر کو بھی مظاہرین نے پھونک دیئے۔
ایران چھوڑنے کی امریکی شہریوں کوہدایت
اس بیچ ، ایران میں آگے کیا ہوگا؟ یہ سوال پوری دنیا کی زبان پرہے۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو ایران فوراً چھوڑ نے کو کہا ہے۔ امریکہ نے شہریوں کو زمین کے راستے ایران کے حدود سے نکل جانے کی ہدایت دی ہے اور جو شہری ایران سے نہیں نکل سکتے ۔ انھیں گھروں اور محفوظ مقامات پررہنے کی ہدایت دی گئ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں کھانے پینے کی اشیاء، دوائیں اور دیگرضروری چیزیں بھی پاس رکھنے کو کہا گیا ہے۔
ایران سے تجارت کرنے پر ٹریف
ادھر،امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر 25فیصد ٹریف لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق فوری اثر ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ، ایران میں مداخلت کرنے کے تعلق امریکہ آپشنزپر غور کرنے کی بات پہلے ہی کہہ چکا ہے۔ادھر، ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی دھمکیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔




