دو دنوں کی بندش کے بعدرفح کراسنگ دوبارہ کھول دی گئی، حماس کا ہتھیارڈالنے سے انکار

Published On: 08 February, 2026 09:52 PM

WhatsApp
Facebook
Twitter
دو دنوں کی بندش کے بعدرفح کراسنگ دوبارہ کھول دی گئی، حماس کا ہتھیارڈالنے سے انکار

رفح کراسنگ دوبارہ کھول دی گئی (رائٹرز)

رفح کراسنگ دو دنوں کی بندش کے بعد اتوار کو دوبارہ کھول دی گئی جو راحت کی خبر ہے ۔ ادھر،حماس کے رہنما خالد مشعل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہتھیار ڈالا جائے گا۔

رفح کراسنگ دو دنوں کی بندش کے بعد آج (اتوار،8 فروری) کو دوبارہ کھول دی گئی۔ مصرکی سرکاری میڈیا کے مطابق ، محدود تعداد میں فلسطینی اس راہداری سے گزرے۔

فلسطینی ہلال احمر کے مطابق،17 مریضوں کا انخلاء عمل میں آیا اوران کے ساتھ27 افراد بھی مصر کے حدود میں داخل ہوئے۔ اتنے ہی افراد مصر سے غزہ کے حدود میں داخل ہونے کی توقع ہے ۔ اس بارے میں اسرائیل نے توثیق نہیں کی ہے۔

ہزاروں مریض علاج کے منتظر
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے رفح کراسنگ تقریبًا دوسال بعد پہلی بار کھولی گئی تھی۔ طریقہ کار پر تذبذب اور الجھن کے سبب رفح کراسنگ کو جمعہ اور اتوار کو بند کردیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے چار دونوں کے دوران غزہ کراسنگ سے36 مریضوں کے ساتھ62 تیماردار مصر میں داخل ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کی وہ واحد سرحدی راہ داری ہے جو اسرائیل کے بجائے مصر سے ملتی ہے، یہ مئی 2024 میں اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد تقریباً 2 سال سے بند تھی۔

فلسطینی حکام کے مطابق  20 ہزار شدید بیمار اور زخمی فلسطینیوں کو فوری طور پر علاج کی ضرورت ہے جبکہ جنگ کے دوران غزہ چھوڑنے والے 80 ہزار سے زائد فلسطینی واپسی کے منتظر ہیں۔کراسنگ سے دونوں اطراف آمد و رفت ممکن ہو گی تاہم صرف پیدل سفر کی اجازت دی گئی ہے۔



واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کی وہ واحد سرحدی گزرگاہ ہے جو اسرائیل کے بجائے مصر سے ملتی ہے، یہ مئی 2024 میں اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد تقریباً 2 سال سے بند تھی۔

اسرائیلی، مصری، فلسطینی اور بین الاقوامی حکام کی طرف سے طے شدہ تعدادکے مطابق ہر روز صرف 50 افراد کو غزہ واپس جانے کی اجازت ہوگی اوراتنے ہی مریضوں کو دو ساتھیوں کے ساتھ غزہ سے باہر جانے کی اجازت ہوگی لیکن اب تک بہت کم لوگ غزہ کو عبور کر سکے ہیں۔



ہتھیارنہ ڈالنے اور مزاحمت جاری رکھنے کا عزم


حماس کے رہنما خالد مشعل نے واضح کیا ہے کہ تنظیم ہتھیار ترک نہیں کرے گی۔ انھوں نے مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ  اسرائیل ،نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت جاری رہے گی۔ بورڈ آف پیس کی 19 فروری کوہونے والی مجوزہ میٹنگ کے تعلق سے خالد مشعل کا کہنا ہے کہ حماس غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی ۔ ان کا مزید کہا کہ غزہ ، اہل غزہ کے لیے ہے اور فلسطین ، فلسیطینیوں کے لیے ہے ۔