مارکو روبیو(فوٹو اے پی)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے کے اوائل میں اسرائیل کا دورہ کریں گے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ ترین جوہری مذاکرات کے بعد بھی کشیدگی برقرار ہے ۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے کے اوائل میں اسرائیل کا دورہ کریں گے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ ترین جوہری مذاکرات کے بعد بھی کشیدگی برقرار ہے ۔
امریکی وزیرخارجہ روبیو کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ ممکنہ فوجی کارروائی کرنے پر ابھی غور کررہا ہے اور کسی حتمی نتیجے پر پہچنے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے پر زور دیا تھا وہ وہاں سے نکل سکتے ہیں ۔ دیگر ممالک نے بھی اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت دی تھی۔
اس بیچ، خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق،اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کی ایک خفیہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران نے انسپکٹر کو حساس جوہری مقامات تک رسائی کی پیشکش نہیں کی ہے کیونکہ گزشتہ جون میں اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ایٹمی تنصیبات پر شدید بمباری کی گئی تھی ۔ اس کے نتیجے میں، اس نے کہا کہ وہ ایران کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کرسکتا کہ ان حملوں کے بعد یورینیم کی افزودگی روک دی ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے پر راضی نہ ہوا تو فوجی کارروائی کی جائے گی جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کا حق ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیارنہیں بنائےگا۔
ایران اپنے موقف پر قائم
جمعرات(26 فروری ) کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے بیچ مذاکرات میں بھی کو خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ تکنیکی بات چیت آئندہ ہفتے ویانا میں ہوگی ۔
عمان کے وزیرخارجہ البوسیدی نے کہا تھا کہ جمعرات کو بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔ تاہم ایران اور امریکہ کے حکام نے آگے بڑھنے کا اشارہ نہیں کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کے روز وضاحتیں پیش کیے بغیر کہا کہ "جو کچھ ہونا ہے وہ ہماری طرف سے واضح طور پر بیان کیاجاچکا ہے۔ ایران جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے عالمی پابندیوں سے راحت چاہتا ہے لیکن وہ جوہری پروگرام کومکمل طور پر ختم نہیں کرےگا۔
طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ پہنچااسرائیل
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار جہازجیرالڈ فورڈ اسرائیل کے ساحلوں پر پہنچ گیا ہے ۔ یہ طیارہ بردار جہاز خطے میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافے کا حصہ ہے ۔ اس سے قبل بن گوریان ایئرپورٹ پر چار امریکی KC-46A Pegasus ایندھن بھرنے والے طیارے پہنچے تھے۔




