صحافتی آزادی 25 سال کی کم ترین سطح پر، عالمی ادارے کی رپورٹ

Published On: 30 April, 2026 07:53 PM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
صحافتی آزادی 25 سال کی کم ترین سطح پر، عالمی ادارے کی رپورٹ

(فوٹواے پی)

صحافت کی آزادی خطرے میں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، صحافتی آزادی کے عالمی نگراں ادارے رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (RSF) نے اپنی سالانہ درجہ بندی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافت کی آزادی گزشتہ 25 برس کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔

صحافت کی آزادی خطرے میں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، صحافتی آزادی کے عالمی نگراں ادارے رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (RSF) نے اپنی سالانہ درجہ بندی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافت کی آزادی گزشتہ 25 برس کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی ہے۔

فرانس میں قائم غیرسرکاری ادارے  نے یہ رپورٹ گلوبل پریس فریڈم ڈے کے موقع پر جاری کی ہے ۔  گلوبل پریس فریڈم ڈے ہر سال تین مئی کو منایا جاتا ہے۔


صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم کے اشاریے کے مطابق 180 ممالک میں سے نصف سے زائد اب ’مشکل‘ یا ’انتہائی سنگین‘ کے زمروں میں شامل ہو چکے ہیں ۔  یہ رپورٹ پانچ بنیادی عوامل کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے ۔ اُن میں سیاسی ماحول، قانونی فریم ورک، معاشی حالات، سماجی و ثقافتی دباؤ اور صحافیوں کی سلامتی شامل ہیں۔


 رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران قانونی اشاریہ میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا بھرمیں صحافت کو بتدریج جرم بنایا جا رہا ہے۔


رپورٹ کے مطابق، صرف 7 ممالک (زیادہ تر شمالی یورپ کے) ایسے ہیں جہاں صحافتی آزادی کی صورتِ حال ’اچھی‘ ہے، ان ممالک میں ناروے، نیدرلینڈز اور ایسٹونیا سرِفہرست ہیں۔

مغربی یوروپ کے ممالک جرمنی(14)،بیلیجیم(16)،برطانیہ(18)، آسٹریا(19)،فرانس (25) اور پولینڈ(27) نمبر پر ہیں وہیں مشرقی یورپ کو صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک خطے قرار دیا گیا ہے۔ روس(172) نمبر ہے۔

اس فہرست میں امریکہ 64 ویں نمبر پرہے ۔ امریکہ میں حالیہ برسوں میں میڈیا پر دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کو بھی صحافیوں کی آزادی کے لحاظ سے خطرناک خطہ نشان زد کیا گیا ہے۔ اسرائیل (116)،عمان (127)فلسطین (156)،عراق(162)،یمن (164)، سعودی عرب (176) اور ایران (177 ) ویں نمبر پر ہیں۔تنظیم نے بتایا ہے کہ کئی ممالک میں صحافیوں کو قانونی اور ریاستی اقدامات کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سری لنکا (134)،بھوٹان (150)، بنگلہ دیش (152)،پاکستان (153)، بھارت(157) ،میانمار (166)، افغانستان (175)  اور چین (178) ویں نمبر پر ہیں ۔ مصر(169)اور ترکی(163) میں بھی میڈیا کی آزادی کی صورتحال  اچھی نہیں ۔

رپورٹ میں غزہ میں اکتوبر 2023ء سے لے کر اب تک 220 سے زائد صحافیوں کی ہلاکت بھی تشویش کا باعث قرار دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگیں، معلومات تک رسائی پر پابندیاں اور ہنگامی قوانین کا غلط استعمال صحافتی آزادی میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔
 

ورلڈ پریس فریڈم ڈے کس دن منایا جاتا ہے ؟

0 :کل ووٹ