(فوٹواے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے حالیہ تجاویز دیکھی ہیں یہ مجھے پسند نہیں آئیں۔
امریکہ کی تجویز پر ایران کا جواب صدرٹرمپ کو قبول نہیں۔انھوں نے ایران کے جواب کوسرے سے مسترد کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے حالیہ تجاویز دیکھی ہیں یہ مجھے پسند نہیں اور یہ تجاویز مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کی تجویز کو کیوں یکسر مسترد کیا اس بارے میں انھوں نے وضاحت نہیں۔اب اس کے بعد بات چیت کے حوالے سے امریکہ کا رُخ کیا ہوگا یہ دیکھنا اہم ہوگا۔
اس سے قبل،صدر ٹروتھ سوشل پر ایران کے رویے پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے لکھا کہ ایران ، امریکہ اور ساری دنیا کے ساتھ 47 برس سے کھیل کھیل رہا ہے( ٹال مٹول اور تاخیر) اور پھر بالآخرکار اس وقت اس نے بڑی کامیابی حاصل کی جب براک حسین اوباما صدر بنے۔
براک اوباما پر الزام عائد کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہا کہ وہ ایران کے ساتھ نہ صرف اچھے تھے بلکہ حد سے زیادہ ان کا ساتھ دینے والے ثابت ہوئے، اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کو بھی نظر انداز کیا اور ایران کو نئی اور توانائی سے پُر زندگی دی۔
ٹرمپ نے پیغام میں آگے لکھا کہ سیکڑوں ارب ڈالر اور 1.7 ارب ڈالر نقد کی صورت میں تہران پہنچائی گئی۔ واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے تمام بینک خالی کر دیے گئے اور رقم اتنی زیادہ تھی کہ ایرانی حکام بھی نہیں جانتے تھے کہ اس کا کیا کیا جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق 47 سال سے ایرانی ہمیں فریب دیتے رہے ہیں، ہمیں انتظار کرواتے رہے، ہمارے لوگوں کو سڑک کنارے بموں سے مارتے رہے، احتجاج کچلتے رہے اور حال ہی میں 42 ہزار بے گناہ اور نہتے مظاہرین کو ہلاک کردیا گیااور ہمارے دوبارہ عظیم بنتے ملک پر ہنستے رہے تاہم وہ اب مزید نہیں ہنس گے۔




